اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 635 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 635

635 اخفائے بیعت کی اجازت لی تھی اور حضرت اقدس نے فرمایا تھا کہ اس اخفا کو صرف اسی وقت تک رکھیں کہ جب تک کوئی اشد مصلحت در پیش ہو کیونکہ اخفا میں ایک قسم کا ضعف ہے اور نیز اظہار سے گویا فعلا نَصِيحَة لِلْخَلَقُ ۴۳۸ نواب صاحب نے خود اپنی بیعت کے متعلق جو ذکر ایک خط میں کیا تھا وہ نواب صاحب کی فطرت سلیمہ پر ایک روشنی ڈالتا ہے اس کا اقتباس ذیل قابل غور ہے: ابتدا میں گو میں آپ کی نسبت نیک ظن ہی تھا لیکن صرف اس قدر کہ آپ اور علماء اور مشائخ ظاہری کی طرح مسلمانوں کے تفرقہ کے موید نہیں ہیں۔بلکہ مخالفین اسلام کے مقابل پر کھڑے ہیں۔مگر الہامات کے بارے میں مجھ کو نہ اقرار تھا نہ انکار۔پھر جب میں معاصی سے بہت تنگ آیا اور ان پر غالب نہ ہو سکا تو میں نے سوچا کہ آپ نے بڑے بڑے دعوے کئے ہیں یہ سب جھوٹے نہیں ہو سکتے۔تب میں نے بطور آزمائش آپ کی طرف خط و کتابت شروع کی جس سے مجھ کو تسکین ہوتی رہی۔اور جب قریباً اگست میں آپ سے لدہیا نہ ملنے گیا تو اس وقت میری تسکین خوب ہوگئی اور آپ کو باخدا بزرگ پایا اور بقیہ شکوک کو پھر بعد کی خط وکتابت میں میرے دل سے بلکلی دھویا گیا۔اور جب مجھے یہ اطمینان دی گئی کہ ایک ایسا شیعہ جو خلفائے ثالثہ کی کسر شان نہ کرے، سلسلہ بیعت میں داخل ہوسکتا ہے۔تب میں نے آپ سے بیعت کر لی۔اب میں اپنے آپ کو نسبتاً بہت اچھا پاتا ہوں اور آپ گواہ رہیں کہ میں نے تمام گناہوں سے آئندہ کے لئے تو بہ کی ہے۔مجھ کو آپ کے اخلاق اور طرز معاشرت سے کافی اطمینان ہے کہ آپ سچے مسجد داور دنیا کے لئے رحمت ہیں۔اس خط سے نواب صاحب کی گناہ سوز فطرت کی بے قراری اور ایک عزم مقبلا نہ کا پتہ ملتا ہے۔پھر آپ کی خط و کتابت کا ایک سلسلہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے رہا اور جب کبھی کوئی سوال پیدا ہوا آپ نے بلاخوف لومتہ لائم حضرت سے پوچھا اور اس کا جواب پایا۔انہوں نے احمدیت کو ایک مجوب انسان کی طرح قبول نہیں کیا بلکہ ایک محقق اور مفکر کی حیثیت سے صداقت یقین کر کے قبول کیا۔۴۳۹ نواب صاحب نے جب بیعت کی اور اخفا کی اجازت چاہی اس کی ایک خاص وجہ تھی۔اس وقت