اصحاب احمد (جلد 2) — Page 607
607 نے صاف لکھا تھا کہ حضرت اقدس نے امعاء کی خراش (سے) انتقال کیا ہے پھر جنازہ کے لے جانے اور ریل گاڑیوں کا انتظام کیا گیا۔میں نے بھی چونکہ جنازہ کے ساتھ جانا تھا میں اپنی کوٹھی پر آیا اور سامانِ سفر کرنے آیا۔اس وقت کوئی دو بجے تھے اس کے بعد تین جو بجے پھر خواجہ صاحب کے مکان پر پہنچا۔وہاں جنازہ پڑھایا گیا تھا۔حضرت اقدس کی شکل نہایت منور تھی اور کسی قدر سُرخی بھی رخساروں پر معلوم ہوتی ہیں تھی۔مستورات ۴ بجے روانہ ہو گئیں پھر جنازہ اس کے بعد اُٹھایا گیا۔اسٹیشن پر پہنچ کر صندوق گاڑی میں رکھ کر اس میں پانچ من برف ڈالی گئی اور پھر حضرت اقدس کو صندوق میں رکھا گیا کیونکہ اسٹیشن تک چار پائی پر حسب معمول جنازہ لایا گیا تھا۔صندوق میں بند نہ کیا گیا تھا یہ کام ہو چکا اسٹیشن ماسٹر آیا کہ جنازہ نہیں جاسکتا۔شیخ رحمت اللہ صاحب مع اسٹیشن ماسٹر ٹریفک سپرنٹنڈنٹ کے پاس گئے اور سرٹیفکیٹ دکھلایا جس کو دیکھ کر وہ حیران رہ گیا کیونکہ یہ سول سرجن کا سرٹیفکیٹ تھا کیونکہ کسی مخالف نے ٹریفک سپرنٹنڈنٹ سے کہہ دیا تھا کہ ان کے گھر کے ڈاکٹر ہیں انہوں نے اسے آپ سرٹیفکیٹ لکھ دیا ہے ورنہ حضرت اقدس نے ہیضہ سے انتقال کیا ہے اس لئے جنازہ نہ جانا چاہیئے۔اب جب سول سرجن کا سرٹیفکیٹ دیکھا تو ٹریفک سپرنٹنڈنٹ نے اجازت دے دی۔اس طرح شیطانوں کے تمام منصوبے باطل ہو گئے۔خلاصہ یہ کہ ریل ساڑھے پانچ بجے روانہ ہوئی اور ہم سب بخیر و خوبی امرتسر پہنچے۔امرتسر میں نماز پڑھی اور کھانا کھایا۔اور پھر وہاں سے چل کر دس بجے بٹالہ پہنچے۔رات بٹالہ بسر کی۔حضرت اقدس کا جسم مبارک صبح دو بجے صندوق سے نکال کر چارپائی پر رکھا اور کثیر جماعت احمدیوں کی ہاتھوں جنازہ قادیان کو لے کر چلی۔صندوق اور برف گڈے (پر) پیچھے آتا رہا۔۲۷ رمئی ۱۹۰۸ء بُدھ اس کے بعد کوئی چار بجے مستورات روانہ ہوئیں اور ہم بھی نماز پڑھ کر روانہ ہوئے۔کوئی آٹھ بجے جنازہ اور ہم سب قادیان میں پہنچے۔جنازہ باغ میں لے جا کر پکتے بڑے مکان میں رکھا گیا۔پل سے جماعت قادیان بھی آشامل ہوئی کوئی نو بجے مستورات بھی آگئیں اور ہم ان کو پہنچا کر واپس آئے۔* تین سے پہلے الفضل میں کوئی کا لفظ درج ہے لیکن اصل ڈائری میں موجود نہیں (مؤلف) ہوتی ، کا لفظ ڈائری میں موجود ہے اور لفظ معلوم خاکسار کی طرف سے ہے (مؤلف) الفضل میں باغ میں لا کر بڑے مکان شائع ہوا ہے۔اصل ڈائری کے الفاظ باغ میں لے جا کر پکے بڑے مکان ہیں (مؤلف)