اصحاب احمد (جلد 2) — Page 594
594 ۱۴ دسمبر ۱۹۰۲ء تہجد پڑھی تکمیل کا غذات میگزین کی۔۔۔پھر بعد نماز ظہر ) مدرسہ کے تخمینہ وغیرہ کے متعلق غور کرتا رہا پھر نماز عصر کے بعد) تخمینہ مدرسہ کیا اور قریب مغرب اُٹھا۔مدرسہ کے متعلق تخمینہ کرنے کے بعد میں ( نے ) خاں صاحب محمد نواب خاں کو سُندر مستری کو سو روپیہ دینے کے لئے کہا تا کہ وہ بہ تفصیل ذیل لکڑی لائے۔برائے مدرسہ ۱۸ روپے ، شہتیری دیار ۲۰ روپے، شہتیری برائے پیر منظور محمد ۸ روپے (بعد مغرب ) کھانا کھا کر مسجد گیا۔وہاں حضور علیہ السلام موجود نہ تھے۔تھوڑے عرصہ بعد اذان ہوئی اور جماعت کھڑی ہوئی۔بعد نماز عشاء گھر ( آیا ) اسوقت ساڑھے سات تھے۔۵/ دسمبر ۱۹۰۲ء نماز تہجد پڑھی پونے چھ بجے اذان ہوئی۔قرآن شریف پڑھا۔میگزین کے فنانشل سیکرٹری کے عہدہ کا چارج مفتی محمد صادق صاحب کو دیا اور اس طرح کوئی گیارہ بجے فارغ ہوا۔پھر مدرسہ کا کھاتہ بناتا رہا کوئی سوا بجے جمعہ کے لئے ) گیا * اور ( بعد ) نماز جمعہ عصر تک پھر کھاتہ مدرسہ بناتا رہا اور پھر عصر باجماعت پڑھی اور عصر کے بعد پانچ بجے تک کھانہ مدرسہ بناتا رہا۔مغرب کے وقت روزہ افطار کر کے ) مسجد گیا۔وہاں نماز مغرب پڑھ کر گھر آیا۔کھانا کھایا اتنے میں عشاء کی اذان ہوئی۔حضور علیہ السلام موجود تھے۔مولوی محمد علی ایک خط ایک مدراسی کا سنا رہے تھے پھر مفتی محمد صادق صاحب نے سوال کچھ حصہ ایک پادری کے لیکچر کے متعلق سنایا۔کوئی ساڑھے سات بجے تک جلسہ رہا پھر نماز عشاء پڑھی گئی۔( نو بجے کے بعد ) عبد اللہ عرب اور عبدائمی عرب سے ملا۔یہ صبح جانے والے تھے۔۶/دسمبر ۱۹۰۲ء کھانہ مدرسہ بناتا رہا پھر ظہر پڑھی کھانہ مدرسہ بناتا رہا پھر عصر کی نماز پڑھی۔مسجد میں نماز کے بعد حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کا رمضان مبارک کا یہ پہلا خطبہ الحکم ۰۲-۱۲-۱۰ میں مرقوم ہے۔اخبار سول ملٹری گزٹ عیسائیت کے متعلق مضمون کا خلاصہ اس تاریخ کو سُننے کا ذکر الحکم پرچہ ۱۰-۱۲-۰۲ ( ص ا کالم ۱) میں ہے۔