اصحاب احمد (جلد 2) — Page 595
595 مولوی عبد الکریم صاحب نے مجھے کو بلایا اور سید محمد رشید صاحب کے متعلق کہا کہ وہ قرضہ مانگتے ہیں 4 روپیہ ماہوار قسط دیں گے۔کل ۲۰ روپیہ چاہتے ہیں۔میں نے ان سے عرض کی کہ میرے پاس سوائے امانت میگزین کوئی گنجائش نہیں پس یہ امانت اس لئے جس وقت مانگی جائے دینا ضروری ہے۔پس میر صاحب یہ لکھدیں کہ جب مجھ کو رقم کی ضرورت ہو وہ یکمشت ادا کر دیں۔اگر ضرورت نہ پڑے تو پھر چھ روپیہ ماہوار دیتے رہیں اور اس کے بعد میں ( نے ) مولوی صاحب سے مدرسہ کے متعلق گفتگو کی کہ آپ امداد دیں۔اور لوگوں کو تحریک (کر ) دیں اور دوسرے میری تجویز ہے کہ مدرسہ میں تخفیف کر کے اور اس طرح کچھ روپیہ بچا کر کالج بنایا جائے اور تخفیف اس طرح ہو سکتی ہے کہ میں بعض اپنے ملازموں کو اس میں داخل کر دوں اور بعض زائد مدرسوں اور ملازموں کو موقوف کیا جائے اس طرح ایک معقول تخفیف کی جائے پھر ( آپ ) اور مولوی محمد علی صاحب کچھ گھنٹے عنایت کریں تا کہ کالج کھول دیا جائے۔اس کو مولوی محمد علی صاحب نے جو بلائے گئے تھے اور مولوی عبدالکریم صاحب نے پسند کیا۔شیخ یعقوب علی صاحب (سے) باتیں کرتا رہا۔روزہ افطار کرنے (کے ) بعد نماز مغرب پڑھی نماز عشاء پڑھ کر گھر آیا۔( آج رات بوجہ علالت حضور مسجد میں تشریف نہ لا سکے۔الحکم بابت ۰۲-۱۲-۱۰ صفحہ ۱۰ کالم۱) ۷ / دسمبر ۱۹۰۲ء کچھ ہدایات متعلق کھانہ (تحریر) کیں۔مدرسہ کے کاغذات منظور کئے (بعد ظہر) پھر مدرسہ کے کا غذات کو منظور کیا ( بعد عصر ) تفخیذ الاذہان کا حساب دیکھا۔(بعد نماز مغرب کھانا کھا کر ) اذان ہونے پر مسجد گیا۔وہاں حضور علیہ السلام موجود تھے مولوی محمد علی صاحب ڈاکٹر ہال کے لیکچر کا خلاصہ سُنا رہے تھے۔کچھ عرصہ کے بعد نماز عشاء پڑھی گئی۔سید محمد رشید صاحب مرحوم حضرت حکیم میر حسام الدین صاحب سیالکوٹی کے صاحبزادہ تھے۔مکرم بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی ( درویش) بیان فرماتے ہیں کہ سید محمد رشید صاحب منارۃ اسیخ کے ابتدائی کام کے انچارج رہے اینٹیں تیار کروائیں وہ ان ایام میں مع اہل وعیال آئے تھے اور انکے قیام کی خاطر بکڈپو کے اوپر کا چوبارہ اور اس کے جنوبی جانب کا کمرہ جو گلی کے اوپر ہے تیار کروایا گیا تھا چنانچہ وہ وہاں مقیم رہے۔مکرم عرفانی صاحب کہتے ہیں کہ ان سکیموں میں وہ میرا مشورہ لازماً لیتے تھے اور میری نسبت ان کا حسن ظن تھا کہ میری رائے اقرب بالصواب ہوتی ہے۔