اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 14 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 14

14 کیا جاتا تھا نوکر لے جاتے۔میں سوچا کرتا تھا کہ صدقہ کی طرز ٹھیک نہیں۔یہ لوگ تو ہر طرح فائدہ اٹھاتے ہیں۔تلاش کر کے اصلی حقداروں کو دینا چاہئے۔بچپن سے بدچلن لوگوں کی باتیں سُن کر ایسی نفرت پیدا ہوئی تھی کہ جس عورت کا ذکر بری طرح سُنا ہو خواہ بات سمجھ میں نہ ہی آتی ہو مگر دل پر ایسا اثر پڑا کہ اس کے دشمن ہی ہو جاتے اور اپنے کمروں یا اپنے خاص نوکروں کے پاس گھنے نہ دیتے تھے ہمشیرہ فاطمہ بیگم صاحبہ جو بہت پیار سے ان کی بچپن کی باتیں سنایا کرتی تھیں۔اکثر کہتیں کہ یہ بڑے ہو کر تو مولوی بنے ہی مگر جب بالکل چھوٹے سے تھے جب ان سے پوچھا جاتا کہ تم بڑے ہو کر کیا کرو گے تو کہا کرتے تھے کہ ظالم اہلکاروں کو اور بدمعاش عورتوں کو پھانسی دے دونگا۔فرماتے تھے کہ اس ماحول میں اور اس زمانہ میں ایک خاص بات محض خدا کے فضل سے ہی میری طبیعت میں پیدا تھی کہ بچپن اور بالکل بے ہوشی کے زمانہ سے ہی بلا سمجھے مجھے تعویذ گنڈوں سے نفرت تھی۔جتنے تعویذوں کے ہار لا دیئے جاتے میں اتار کر پھینکتا ایک بار ایک خاص منت کا ہارا تار کر چلتی ریل سے باہر پھینک دیا تو والدہ کو بہت صدمہ ہوا۔اور وہم گذرا مگر پھر انہوں نے کہا کہ یہ بچہ چونکہ ہمیشہ ایسی حرکت کرتا ہے تو کہیں کسی گستاخی کا عذاب ہی نہ پڑ جائے۔اس لئے اس سے تو بہتر ہے کہ اس کو کچھ نہ پہنایا جائے۔ایک امر بروایت مکرم میاں مسعود احمد خاں صاحب۔عہد طفولیت میں رسومات سے متنفر کرنے کا موجب یہ ہوا کہ والدہ فقراء کی بہت معتقد تھیں ایک فقیر اپنے ہاں رکھا ہوا تھا۔وہ تو شہ خانہ میں رہتا تھا۔اس کا لحاف پر انا ہو گیا نیا حاصل کر نیکی اس نے یہ ترکیب کی کہ اسے وہیں آگ لگادی اور باہر نکل کر شور مچانے لگا کہ دروداُلٹ گیا ہے اس طرح دوسری چیزیں بھی آگ سے ضائع ہو گئیں۔اور ایسے امور کا ردعمل یہ ہوا کہ آپ ان رسومات واعتقادات کے مخالف ہو گئے۔فرماتے تھے کہ ہم نے بہت رسومات دیکھیں حتی کہ ہندوؤں کو تہواروں میں گدھوں تک کی پوجا کرواتے پایا۔پہلی شادی اور ترک رسوم نکاح چودہ سال کی عمر میں اپنی خالہ زاد مہر النساء بیگم صاحبہ سے ہو چکا تھا جن کی عمر اس وقت سات آٹھ سال کی تھی۔۲۱ سال کی عمر میں کورٹ گھلنے کے بعد تقریب رخصتانہ عمل میں آئی جس میں نواب صاحب نے حتی المقدور کسی قسم کی رسوم نہیں ہونے دیں۔اور جب سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ سے شادی ہوئی ہے۔اس زمانہ تک خاندان کی بڑی بوڑھیوں کی زبان پر گویا نعوذ باللہ ان کی اس وقت کی بے شرمی اور منہ زوری کے قصے تھے کہ کسی کی نہیں مانی اور جو چاہا کیا۔پھر بھی بوڑھے صاحب اقتدار اہلکاروں اور ہمشیرہ وغیرہ نے کچھ نہ کچھ کر ہی لیا مگر پھر تو یہ ایسے سخت ہوئے کہ کوٹلہ میں گویا ایک ضرب المثل بن گئے۔(ن)