اصحاب احمد (جلد 2) — Page 13
13 بے حد خیال رکھا۔ہر وقت اُن کی کوشش تھی کہ اُن کو کوئی تکلیف نہ ہو نہ کوئی کمی انکی تعلیم وتربیت میں رہ جائے۔مگر اپنے شوہر کی وفات کے بعد وہ ایک دن بھی اچھی نہ رہیں۔صحت گرتی ہی گئی۔آخر ان کے پورے چھ سال کے بعد وہ بھی اولاد کو داغ مفارقت دے گئیں۔انہوں نے کل تمہیں سال عمر پائی۔فرمایا کرتے تھے کہ اس وقت دل کو احساس اس قسم کا تھا کہ گویا ایک سایہ تھا جو سر سے ہٹ گیا اور ہمارا بچپن بکلی رخصت ہوگیا ہے۔اس کے بعد سے میری ذمہ داریاں بڑھ گئیں بھائی برابر کے بھائی تھے حکمت اور محبت سے ہی ان کو قابو میں رکھنا اور اپنے حسب منشاء چلانا ہوتا تھا۔زمانہ خراب۔گھر سے باہر سب جگہ بُری ہی صحبت اور گندے صلاح کار جن باتوں سے مجھے فطرتی نفرت تھی کوئی وجہ نہ تھی کہ دوسرے خود مختار بھائی بھی اس کے پابند ہوں۔مثلاً تہواروں کی فضول رسوم ہیں۔عید کے دربار پر رنڈیوں کے ناچ ہیں۔بھائیوں کو مفت خورے شوقین سکھا رہے ہیں کہ فلاں بات تو ضرور ہو۔ادھر وہ خود بچے۔رونق اور دلچسپیاں کس کو پسند نہ ہونگی۔وہ مصر ہیں کہ ایسا ضرور ہو اور ادھر ہم متنفر ہیں۔غرض کبھی تو حکمت سے سمجھا کر ان کو منالیا جا تا کبھی ان کی ضد ماننا پڑتی مگر بعد میں ان کو پھر سمجھاتا اور حسن و فتح سے آگاہ کرتا تو وہ مان لیتے اور رفتہ رفتہ وہ خود بڑی حد تک ان باتوں سے دور ہوتے گئے۔منجھلے بھائی (سر) ذوالفقار علی خان کی طبیعت میں بہت سعادت تھی۔فطرتاً خود بھی نیک تھے اور نیک صلاح کو فورامان لیتے تھے چھوٹے بھائی سے زیادہ مغز زنی کرنی پڑتی تھی۔(ن) ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات۔طفولیت سے شرک ، بدعات مکروہات سے طبعی نفرت آپ کو ہر چیز کی دریافت کا فطر تا شوق تھا۔کھلونے آتے اور فورا تو ڑ کر ان کو جوڑنے کی ترکیبیں سوچی جاتیں۔فلاں چیز کیسے بنی۔کس چیز سے بنی کھیل میں بھی یہی خیال رہتا تھا۔سوچنے کی عادت عہد طفولیت سے تھی۔فرماتے تھے ضد اور بات پر اڑ جانے کی عادت مجھے ہمیشہ سے تھی مگر یہ ضرور تھا کہ میں بعد میں فورا سو چتا کہ کیا مجھ سے صادر شدہ حرکت مناسب تھی اور مجھے جو کہا گیا یا روکا گیا تو کیا یہ ٹھیک نہ تھا؟ اور جب اپنی خطا سمجھ میں آجاتی تو پھر دوبارہ کبھی وہ بات نہ کرتا۔اسی لئے چھوٹی سی عمر میں ہی میں ڈانٹ ڈپٹ کے دور سے گذر چکا تھا اور بڑوں کو بہت کم ہی کچھ کہنے کی ضرورت پڑتی تھی۔حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ بیان فرماتی ہیں کہ نواب صاحب فرماتے تھے کہ ہمارے سرہانے اس زمانہ کے امراء کے دستور کے مطابق۔اناج۔تیل اور نقدی وغیرہ رکھا جاتا اور صبح یہ صدقہ جو غرباء کے لئے فرض