اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 12 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 12

12 رہا۔پھر استاد مارتا ہی گیا۔آنکھوں سے آنسو بہ رہے تھے لیکن میری طرز میں کوئی فرق نہ آیا حتی کہ استاد خود ہی تھک کر مارنے سے باز آ گیا۔(م) بچپن میں ہی قوم کے لئے غیرت تھی اور غلامی کو بُرا سمجھتے تھے۔ایک دفعہ علیگڑھ کالج کا پرنسپل مسٹر آرنلڈ جو انگریز تھا۔یو۔پی کے دیسی لباس میں لاہور آیا تو ایچی سن کالج کے گورنر مسٹر بلیک نے اسے نفرت کی نگاہ سے دیکھا۔اس پر نواب صاحب کے دل پر بہت اثر ہوا۔اور آپ نے سوچا کہ آخر ہم ان لوگوں کا لباس کیوں اختیار کریں۔چنانچہ آپ نے کبھی انگریزی لباس نہیں پہنا تھا۔آپ ٹینس کھیلنے جاتے تھے۔آپ کو مجبور کیا گیا کہ اس کا مخصوص انگریزی لباس پہنیں۔آپ نے اس سے انکار کیا اور کوشش کر کے اپنے آپ کو کھیل سے مستشٹے کرالیا۔لیکن آدھ گھنٹہ کے لئے حاضری ضروری قرار دی گئی۔آپ گھڑی لے کر وہاں پہنچتے اور آدھ گھنٹہ کے گزرتے ہی واپس چلے آتے (م) (لطیفہ ) جب نواب صاحب ابتداء میں انبالہ تعلیم کے لئے گئے تو اس وقت آپ کی عمر بہت چھوٹی تھی۔آپ کے ہم جماعت بڑے بڑے سکھ رئیسوں کے لڑکے تھے وہ اکثر اپنے ساتھیوں کو بہت ستاتے اور چھیڑتے تھے۔ایک ہندو استاد جو آپ سے بہت مہربانی سے پیش آتے تھے انہوں نے آپ کو ایک شعر یاد کروا دیا کہ جب تم کو یہ ناحق ستائیں تو خوب اکثر کر یہ شعر پڑھا کرو اوران کامنہ نوچ لیا کرو۔وہ شعر یہ تھا ہم شیر ہیں قتسم اسد کردگار کی رکھتے ہیں ناخنوں میں بُرش ذوالفقار کی (ن) والدین کا انتقال اور بہن بھائیوں کی پرورش کا بار گراں نواب صاحب کی ساڑھے سات سال کی عمر تھی کہ آپ کے والد بزرگوار نے وفات پائی۔گونواب صاحب کو انبالہ سے بلوا بھیجا تھا مگر حالت اس قدر تشویشناک نہ تھی اچانک ہی چند گھنٹوں میں حالت بگڑ کر سینتالیس سال کی عمر میں ان کی وفات ہوگئی اور سر سے والد کا سایہ اٹھ گیا۔فرماتے تھے کہ اس وقت مجھے یوں معلوم ہوتا تھا کہ کوئی سہارا نہیں رہا اور میں تنہا رہ گیا ہوں اور اتنی عمر میں یہ احساس تھا کہ اب اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کا تمام فکر اور ذمہ داری مجھ پر ہی ہے۔اس دن کے بعد جب تک وہ بالغ ہو کر خود مختار نہیں ہو گئے گھر پریا وہ بھی جب سکول پہنچ گئے تو وہاں ایک رات نہیں گزری کہ میں نے راتوں کو اُٹھ اُٹھ کر بھائیوں کو نہ دیکھا ہو۔ذرا بڑے ہوئے تو یہ فکر دامن گیر رہا کہ کسی خراب صحبت میں نہ چلے جائیں کیونکہ زمانہ بہت خراب تھا۔والدہ ماجدہ کی شفقت اور توجہ والد کے بعد بہت بڑھ گئی تھی۔اُنہوں نے اپنے بچوں کا ہر صورت سے