اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 552 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 552

552 ۳/دسمبر ۱۹۰۱ء آج رات کو بعد فراغت نماز مغرب حضرت اقدس نے نہایت پر جوش تقریر فرمائی۔حضرت اقدس کو اس قدر جوش تھا کہ کھڑے ہو کر تقریر فرمائی۔ماحصل تقریرہ یہ تھا۔ر بعض لوگ جمع بین الصلاتین کے متعلق ابتلا میں پڑتے ہیں۔ہم اس بارہ میں کئی دفعہ سیر وغیرہ کے موقع پر “ ۵/ دسمبر ۱۹۰۱ء آج صبح چار بجے قادیان سے چلے تین بجے لاہور پہنچے۔بمبئی ہاؤس اترے۔۔۔عبد الرحمن کو چڑیا گھر دکھانے لے گئے۔وہاں سے آکر نماز پڑھ (کر) سو گئے۔ڈائری میں یہیں تک مرقوم ہے گویا کہ عبارت غیر مکمل ہے۔مزید تشریح کے لئے 9 دسمبر کو مولوی سید محمد احسن صاحب نے عرض کیا۔حضور نے جو جواب دیا اس کا خلاصہ الحکم بابت ۰۱-۱۲-۱۷ صفحہ ۸ پر مرقوم ہے۔بقیہ حاشیہ: - تحدیث اور شکریہ کے لئے احباب کو دعوت دی گئی۔اور آمین کے ذریعہ خدا کے احسانوں کا شکریہ کیا گیا اور اپنے دعاوی کی تبلیغ کی گئی۔اس کی کچھ تشریح رسالہ نوراحمد نمبر صفحہ ۴۷ پر دیکھیں۔پر چه ۰۲-۱۰-۱۷ (صفحہ ۸) میں مرقوم ہے: پھر یہ سوال کیا گیا کہ لڑکی یا لڑکے والوں کے ہاں جو جوان عورتیں مل کر گاتی ہیں وہ کیسا ہے؟ (حضرت اقدس نے ) فرمایا اصل یہ ہے کہ یہ بھی اسی طرح پر ہے۔اگر گیت گندے اور ناپاک نہ ہوں تو کوئی حرج نہیں ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ میں تشریف لے گئے تو لڑکیوں نے مل کر آپ کی تعریف میں گیت گائے تھے۔“ ۱۳ جون ۱۹۳۸ء کو میر قاسم علی صاحب رضی اللہ عنہ ایڈیٹر فاروق کی شادی کے موقعہ پر حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ تعالی تشریف لے گئے۔اس موقعہ پر دورانِ گفتگو میں فرمایا۔۔۔بیاہ شادی کے موقعہ پر پاکیزہ اشعار عورتیں پڑھیں اور پڑھنے والی مستاجر نہ ہوں تو کوئی حرج نہیں۔یہ بھی فرمایا کہ ڈھولک کے ساتھ پاکیزہ گا نا منع نہیں ہے۔“ ۴۰۲