اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 10 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 10

10 نہیں کر سکتے تھے۔اور والد کے پُرانے نوکروں اور خاص کر جن سے رشتہ ہوتا تھا ان کو تو کھڑے ہو کر تعظیم دینا اور سلام کرنا ہوتا تھا۔ایک بار کھلائیے نے تھپڑ زور سے مارا۔نشان رخسار پر پڑ گیا۔والد نے پوچھا یہ کیا ہے؟ میں نے کہا شیخ جی نے مارا ہے۔کہا میاں !تم نے شرارت کی ہوگی۔کہنا مانا کرو۔غرضیکہ میرے سامنے مجھی کو سمجھا یا ذرا بھی رنج کا اظہار نہ کیا۔گو ان کو الگ بلا کر ضرور سمجھایا ہوگا۔دائی وغیرہ نوکروں کو حکم تھا کہ چیز سامنے زیادہ رکھو مگر زیادہ کھانے نہ دو تا کہ معدہ نہ بگڑے۔بلکہ بہلا پہلا کر ان کے ہاتھوں سے تقسیم کروا دیا کرو۔روز یہی نقشہ ہوتا کہ ناشتہ وغیرہ کی مٹھائی سب بنٹوائی جاتی۔میاں اس کو دومیاں اس کو دو۔اور آخر میں میرے حصہ میں اکثر جلیبی کی ایک شاخ ہی آتی۔(ن) ایک دفعہ کا واقعہ بیان کرتے تھے کہ بھائی ذوالفقار علی خان دو اڑھائی سال کے تھے اور ہم دونوں کھیل رہے تھے کہ میرے بڑے بھائی آگئے۔ان کے خلاف روائتیں نوکروں سے سُن رکھی تھیں۔پانچ چھ سال کی میری عمر تھی۔بچپن کا زمانہ۔میں نے جلدی سے بھائی کو گھسیٹ کر کوٹھری میں گھس کر کنڈی لگالی۔چھوٹے بھائی نے رونا شروع کیا۔آخر کار نوکروں نے زبر دستی دروازہ کھلوایا۔والد کو خبر ہوئی۔پوچھا کہ یہ کیا حرکت کی تم نے۔بند کیوں ہوئے تھے؟ میں نے کہا دشمن جو آگیا تھا میں نے اپنے بھائی کو چھپالیا۔والد نے خفگی کا سامنہ بنایا اور بہت سنجیدگی سے سمجھایا کہ وہ بھائی ہے تمہارا۔جس نے تم کو یہ بات سکھائی ہے اس نے جھک ماری آگے کو کبھی بھائی کو دشمن نہ کہنا۔فرماتے تھے کہ اپنی اس حرکت پر میں نے ندامت محسوس کی اور بڑے ہو کر تو میں نے ہمیشہ ان دونوں بھائیوں کو باپ کی جگہ سمجھا۔اتنا ادب کیا اتنی اپنائیت ان سے برتی کہ آخر ان کا رویہ ہی بدل گیا اور وہ محبت بلکہ خاص عزت مرتے دم تک کرتے رہے اور ہر معاملہ میں مجھ سے مشورہ لیتے تھے اور اپنا سچا یہی خواہ جانتے تھے۔(ن) اس سے ظاہر ہے کہ نواب غلام محمد خان تربیت اولاد کا کیسا خیال رکھتے تھے اور کیسے عالی ظرف اور کریم الاخلاق تھے۔محترم عرفانی صاحب بیان کرتے ہیں کہ مجھے لدھیانہ میں ایک شخص نے نواب غلام محمد خان کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ وہ شیعہ تھے اور محرم میں ان کے ہاں مجالس وغیرہ ہوتی تھیں۔ایک محرم میں میں بھی مجلس میں بطور تما شائی موجود تھا۔اختتام مجلس پر کشمش و غیرہ میوہ بطور تبرک تقسیم ہورہاتھا۔ایک شخص نے کہا کہ مجھے بھی دو میں رافضی ہوں شیعہ حضرات کے نزدیک رافضی کہنا تو گویا گالی ہے۔مگر نواب صاحب کچھ مسکرائے اور کہا کہ بھٹی ! اس رافضی کو دوہرا حصہ دو۔چنانچہ اسے بہت سا میوہ دیا گیا اور کچھ نقد بھی دیا۔یہ تھی ان کی سیر چشمی اور خود داری۔