اصحاب احمد (جلد 2) — Page 534
534 پڑھی۔پھر حافظ داؤ د صاحب کو خط لکھا۔اس کے بعد مولوی عبد الکریم صاحب آگئے۔ان سے باتیں کرتا رہا۔نماز مغرب جماعت کے ساتھ پڑھی بعد نماز عشاء قریب ساڑھے سات بجے سو گیا۔۲۵ جنوری ۱۸۹۸ء آج صبح تین بجے کے بعد کچھ منٹ گزرے (کہ) بیدار ہوا۔تہجد پڑھی پھر کھانا کھایا ( سحری )۔نماز با جماعت پڑھی۔بعد نماز قرآن شریف کا ایک ربع پڑھا۔اب کہ سوا سات بجے ہیں یہ ڈائری لکھی۔بروز بدھ ۲۶ جنوری ۱۸۹۸ء آج بھی ڈائری لکھنی بھول گیا امور معمولی حسب معمول ہوئے۔آج نئی بات یہ ہوئی کہ میں نے تجدید بیعت حضرت اقدس مرزا صاحب سے کی اور صفدر علی نے بھی بیعت کی یہ بیعت بیعت تو یہ تھی۔ا مکرم عرفانی صاحب تحریر فرماتے ہیں۔حافظ داؤ دصاحب مالیر کوٹلہ کے تھے سلسلہ کے ساتھ تعلق نہ تھا نواب صاحب انہیں تبلیغ کر رہے تھے۔“ مرزا صفدر علی صاحب رضی اللہ عنہ کا ذکر ۹۸-۱-۹ کی ڈائری میں گزر چکا ہے آپ کا نام فہرست آئینہ کمالات اسلام میں نمبر ۳۵ پر ہے۔آپ کی وفات اور بہشتی مقبرہ میں تدفین کا ذکر الفضل بابت ۲۱-۸-۲۴ میں آتا ہے۔آپ ۲۴-۸-۱۸ کو فوت ہو کر قطعہ نمبر ۲ حصہ ۱۴ قبر نمبر ۵ میں دفن ہوئے۔مکرم عرفانی صاحب تحریر فرماتے ہیں۔صفدر علی صاحب مرزا تھے۔نواب صاحب کے بچپن کے زمانہ سے ان کے ساتھی تھے۔اور نواب صاحب با وجود خادم ہونے کے اسے محبت کی نظر سے دیکھتے تھے۔وہ بہت ہوشیار اور تجربہ کار تھے۔نواب صاحب کے تمام سفروں میں ساتھ رہے اور ان کے خدام میں وہ پہلے آدمی تھے جو بیعت ہوئے۔اللہ تعالیٰ نے ان کی اولاد کو نوازا ایک لڑکی مولوی محمد صاحب بھاگلپوری جو مدراس میں ڈائر کٹر تعلیم اور پروفیسر وغیرہ رہ چکے ہیں ان سے بیاہی گئی اور ایک لڑکا سندھ میں خوش حال زمیندار اور سلسلہ کے کاموں میں مال ( کی ) قربانی کرنے والا ہے۔اللهم زدفرد۔سندھ والے بیٹے مرزا صالح علی صاحب ہیں۔جن کی طرف سے پچاس روپے امداد درویشاں میں دینے کا ذکر الفضل بابت ۵۲-۲ - ۲۸ صفحہہ میں مرقوم ہے۔الحکم جلد ۵ نمبر ۴ صفحہ کالم میں مدرسہ تعلیم الاسلام کے لئے ایک شیخ قائم علی صاحب کے چندہ کا ذکر آتا ہے۔مکرم میاں محمد عبدالرحمن خاں صاحب فرماتے ہیں کہ