اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 515 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 515

515 خداوند تعالیٰ سے صلح کرو۔اور خدا اور رسول کے حکموں کی تعمیل کرو اور اس امام وقت کو مانو جس کو خدا نے اس وقت لوگوں کی اصلاح کے لئے حضرت رسول محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بروز بنا کر بھیجا ہے گویا حضرت رسول کریم خود تشریف لے آئے ہیں۔دیکھو میری ان باتوں سے شک میں نہ پڑو بلکہ ان کو مانو تا کہ فلاح پا جاؤ۔راقم محمد علی خاں اس طرح ایک عزیز نے نواب صاحب کو ناراض پا کر طلب عفو کے لئے خط لکھا تو آپ نے جو جواب دیا سنہری حروف سے لکھا جانے کے قابل ہے۔فرماتے ہیں بسم الله الرحمن الرحيم دار السلام دار الامان قادیان ضلع گورداسپور پنجاب ۲۴ ستمبر ۱۹۳۷ء تمہارے خطوط کئی ایک آئے مگر میں حیران ہوں کہ کیا جواب دوں۔میری ناراضگی ایک طرف اور سلسلہ کی شکایات ایک طرف جس سے ہر ایک احمدی متنفر۔تم اتنی عمر ہو کر گھاٹ گھاٹ کا پانی پی کر بیرسٹر ہوکر مجسٹریٹ ہو اتنی موٹی بات بھی نہیں سمجھتے کہ سب باتیں تمہارے دو فقروں سے کس طرح دھل سکتی ہیں کہ مجھے معاف کیا جائے اور سب اتہامات ہیں اس میں شک نہیں کہ میں سنی سنائی باتوں کا اعتبار نہیں کرتا مگر میرے نا اعتبار کرنے سے کیا ہوتا ہے۔قرآن ہم نے سنا محمد رسول اللہ پر اترا اور اعتبار کیا۔ہم نے سنا محمد رسول اللہ خدا کے نبی تھے ہم نے اعتبار کیا۔اب اس وقت جتنا ہمارا دین ہے اس کا شنوائی پر مدار ہے۔تم مجسٹریٹ ہو تمام فیصلے سنی سنائی باتوں پر کرتے ہو تو ہر ایک سنی ہوئی بات غیر معتبر نہیں ہوتی پھر جب عمل بھی اس کا شاہد ہو۔تم ہی بتلا ؤ تمہارا کون ساعمل ظاہر کرتا ہے کہ سلسلہ سے تمہارا تعلق ہے۔جب سے تم نے ہوش سنبھالا ہے مجھے یہی نظر آتا ہے۔مگر میں دیکھتا رہا کہ کبھی تو اصلاح ہوگی مگر اب تک کوئی تبدیلی نظر نہیں آئی۔کیا میرا مقصود یہی تھا کہ تم برائے نام احمدی کہلا ؤ اور احمدیت سے کوئی تعلق نہ ہو؟ کوئی ایمانی غیرت نہ ہو؟ اور پھر میرے خلاف کیا میری آرزو کے خلاف کیا میرے طریق کے خلاف تم نے نہیں کیا ؟ پھر مجھ سے تم کیا توقع رکھ سکتے ہو تم سوچو کہ جیسا کہ حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں ” سے سہل است از دنیا بریدن یعنی دنیا سے کٹنا نہایت سہل ہے اور قرآن شریف ہمیں یہی تاکید کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی محبت کے مقابلہ میں کوئی محبت غالب نہ آئے تو پھر بتلاؤ کہ جب میں دیکھوں کہ میری خواہش اور آرزوؤں کا خون ہوا اور میری طرز کے خلاف ہوا اور دین کی کوئی غیرت نہ ہو تو