اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 504 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 504

504 اپیل مقدمہ جرمانہ دائر کیا گیا ہے مگر حکام نے مشتغیث کی طرف سے یعنی کرم دین کی مدد کے لئے سرکاری وکیل مقرر کر دیا ہے۔یہ امر بھی اپیل میں ہمارے لئے بظاہر ایک مشکل کا سامنا ہے۔کیونکہ دشمن کو وکیل کرنے کی بھی ضرورت نہ رہی۔اس میں وہ بہت خوش ہوگا اور اس کو بھی اپنی فتح سمجھے گا۔ہر طرف دشمنوں کا زور ہے۔خون کے پیاسے ہیں مگر وہی ہوگا جو خواستہ ایز دی ہے۔والسلام خاکسار مرزا غلام احمد عفی عنہ ۲۰ / دسمبر ۱۹۰۶ء حضور کی تربیت کا جو نتیجہ نکلا سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کی زبانی سنیئے فرماتی ہیں۔” صبر واستقلال خدا نے خاص طور پر ان کو عطا کیا تھا۔بے حد عالی حوصلہ تھے۔عجیب دل پایا تھا۔حالات کے چکر میں پڑ کر تمام عمر ایک طرح قرض وغیرہ کے پھیر میں تفکرات میں ہی گزری مگر کیا مجال جو کبھی دل چھوڑا ہو یا مزاج خراب ہوا ہو۔اس طرح ہشاش بشاش رہتے گویا ان سے زیادہ کوئی خوش ہی نہیں ہے۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ ان کے دل پر تو مجھے رشک آتا ہے بڑا حوصلہ پایا ہے۔کبھی حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کو دردناک الفاظ میں دعا کو لکھتے اور پھر نہایت بشاش باتیں کرنے لگتے تو میں ان سے کہتی تھی کہ آپ میں جب خود اتنا حوصلہ ہے کہ اپنے تئیں اتنا خوش رکھتے ہیں۔اور اب اچھے بھلے ہنس بول رہے ہیں تو ان کو تکلیف دینے کو ایسے خط کیوں لکھتے ہیں کیونکہ آخر ان کو دکھ ہوگا۔وہ گھبرائیں گے ؟ تو فرماتے وہ تو روحانی باپ ہیں میرے۔ان کے دل میں درد پیدا نہ کروں تو اور کس کے کروں؟ فرمایا کرتے تھے کہ میری طبیعت ہے کہ میں حتی المقدور غم کو اپنے پر بالکل حاوی نہیں ہونے دیتا۔تھوڑی دیر کے لئے خیال آیا اور نکل گیا۔میں جب سوچتی ہوں کہ ان حالات میں جن میں سے ہم گزر رہے تھے ہماری زندگی کتنی خوشگوار یه مکتوب نمبر ۸۶ ہے لیکن یہاں اصل سے تصحیح کر کے درج کیا گیا ہے۔تاریخ غلط ہے۔اصل مکتوب سے تاریخ دیکھنا یاد نہیں۔چونکہ بمقدمہ کرم دین اپیل کی کامیابی پر جرمانہ ۰۵-۱-۲۴ کو واپس ہوا۔اس لئے لا زما یه مکتوب ۲۰ دسمبر ۱۹۰۴ء کا ہے۔ہندسہ ۴ اور ۶ مشابہ ہے۔پڑھنے میں غلطی ہونے کا امکان ہے۔