اصحاب احمد (جلد 2) — Page 467
467 ۱۹۱۳ء کا افسوسناک سال اس کے بعد ۱۹۱۳ ء آیا۔مسیح موعود علیہ السلام سے بعد اور نور نبوت سے علیحدگی نے جو بعض لوگوں کے دلوں پر زنگ لگا دیا تھا اس نے اپنا اثر دکھانا شروع کیا۔اور بظاہر یوں معلوم ہوتا تھا کہ یہ سلسلہ پاش پاش ہو جائے گا۔نہایت تاریک منظر آنکھوں کے سامنے تھا۔مستقبل نہایت خوفناک نظر آتا تھا۔بہتوں کے دل بیٹھ جاتے تھے۔کئی ہمتیں ہار چکے تھے۔ایک طرف وہ لوگ تھے جو سلسلہ کے کاموں کے سیاہ وسفید کے مالک تھے۔دوسری طرف وہ لوگ تھے جو کسی شمار میں ہی نہ سمجھے جاتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات پر جو عہد میں نے کیا تھا وہ بار بار مجھے اندر ہی اندر ہمت بلند کرنے کے لئے اکساتا تھا مگر میں بے بس اور مجبور تھا۔میری کوششیں محدود تھیں۔میں ایک پتے کی طرح تھا جسے سمندر میں موجیں ادھر سے ادھر لئے پھریں۔سلسلہ کو ایک اخبار کی ضرورت بدر اپنی مصلحتوں کی وجہ سے ہمارے لئے بند تھا۔احکام اول تو ٹمٹماتے چراغ کی طرف کبھی کبھی نکلتا تھا اور جب نکلتا بھی تھا تو اپنے جلال کی وجہ سے لوگوں کی طبیعتوں پر جو اس وقت بہت نازک ہو چکی تھیں بہت گراں گزرتا تھا۔ریویو" ایک بالا ہستی تھی جس کا خیال بھی نہیں کیا جاسکتا تھا۔میں بے مال وزر تھا۔جان حاضر تھی۔مگر جو چیز میرے پاس نہ تھی وہ کہاں سے لاتا۔اس وقت سلسلہ کو ایک اخبار کی ضرورت تھی جو احمد یوں کے دلوں کو گرمائے۔ان کی سستی کو جھاڑے۔ان کی محبت کو ابھارے۔ان کی ہمتوں کو بلند کرے۔اور یہ اخبار ثریا کے پاس ایک بلند مقام پر بیٹھا تھا۔اس کی خواہش میرے لئے ایسی ہی تھی جیسے ثریا کی خواہش۔نہ وہ ممکن تھی نہ یہ۔آخر دل کی بے تابی رنگ لائی۔امید بر آنے کی صورت ہوئی۔اور کامیابی کے سورج کی سُرخی افق مشرق سے دکھائی دینے لگی۔“ پھر حضور اپنے حرم اول سیدہ ام ناصر صاحبہ کے بے نظیر ایثار کا ذکر فرماتے ہیں جنہوں نے دوز یور الفضل کے اجراء کے لئے دئے اور ان کی پونے پانصد روپیہ کی قیمت اخبار کے لئے ابتدائی سرمایہ بنی اور پھر حضرت ام المؤمنین اطال اللہ بقاء ہا کا ذکر فرماتے ہیں جنہوں نے اخبار کے لئے زمین دی جو قریباً ایک ہزار میں فروخت ہوئی۔اور پھر تحریر فرماتے ہیں: تیسرے شخص جن کے دل میں اللہ تعالیٰ نے تحریک کی وہ مکرمی خان محمد علی خاں صاحب ہیں۔آپ نے کچھ روپیہ نقد اور کچھ زمین اس کام کے لئے دی۔پس وہ بھی اس رو کے پیدا کرنے میں جو اللہ تعالیٰ نے