اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 462 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 462

462 +1- بمقدمہ کرم دین حضور کے جرمانہ کی رقم ادا کی بمقد مه کرم دین آتما رام مجسٹریٹ کی نیت نیک نہ تھی اور وہ حضرت اقدس کو سزائے قید دینے پر آمادہ تھا چنانچہ ۸- اکتوبر ۱۹۰۴ء کو اس نے حضرت اقدس کو پانصد جرمانہ اور حضرت حکیم مولوی فضل دین صاحب کو د و صد روپیہ جرمانہ اور عدم ادائیگی کی صورت میں چھ چھ ماہ قید کا فیصلہ سنایا اور اس کا منصوبہ یہ تھا کہ جرمانہ فوراً ادانہ ہو سکے گا اور قید کی سزادی جا سکے گی لیکن یہ سات صد روپیہ فوراً ادا کر دیا گیا جس سے اس کا سارا منصوبہ خاک میں مل گیا۔یہ اللہ تعالیٰ کا خاص فضل تھا کہ اس نے نواب صاحب کے دل میں یہ بات ڈالی کہ مجسٹریٹ کی نیت اچھی نہیں اور آپ نے احتیاطاً نوصد روپیہ ایک روز بیشتر اپنے ایک آدمی کے ہاتھ گورداسپور بھیج دیا اور یہی رقم ان جرمانوں کی ادائیگی میں کام آئی۔مکرم میاں محمد عبد الرحمن خاں صاحب و مکرم میاں محمد عبد اللہ خاں صاحب کے اس بیان کی تصدیق حضرت اقدس کے ایک غیر مطبوعہ مکتوب سے بھی ہوتی ہے جس میں حضور تحریر فرماتے ہیں۔مکرر یہ کہ اپیل خدا تعالیٰ کے فضل سے منظور ہو گیا ہے اور سات سوروپیہ جیسا کہ دستور ہے کہ انشاء اللہ واپس مل جائے گا اس لئے میں نے کہہ دیا ہے کہ جب وہ روپیہ ملے تو وہ آپ کی خدمت میں بھیج دیا جائے کیونکہ مشکلات کے وقت میں آپ کو ہر طرح سے روپے کی ضرورت ہے۔۱۱- پانصد روپیہ بھیجنا مکرم میاں محمد عبد اللہ خاں صاحب بیان کرتے ہیں کہ بسا اوقات سلسلہ کے کسی کام کے لئے روپیہ درکار ہوتا تو حضرت اقدس خود تحریک کر کے نواب صاحب سے روپیہ منگوا لیتے تھے۔ایک دفعہ حضور نے مجدد اعظم کا یہ بیان کہ خواجہ کمال الدین صاحب کو تھوڑی دیر قبل ایک موکل سات صد کی رقم دے گیا تھا ( جلد دوم صفحہ ۹۷۷) لا زما غیر صحیح ہے خاکسار کے استفسار پر مکرم عرفانی صاحب تحریر فرماتے ہیں۔خواجہ کمال الدین مرحوم کے سات سو روپیہ کا قصہ محض غلط ہے میں ان کی قربانی کا قائل ہوں کہ وہ اپنی پریکٹس چھوڑ کر یہ کام کر رہے تھے مگر سلسلہ کی طرف سے ان کو روپیہ بھی دیا گیا۔اس روپے کے دئے جانے سے ان کی قربانی پر کوئی اثر نہیں۔یہ سات سو نواب صاحب ہی کے روپے کا ایک جزو تھا اور احتیاطاً خواجہ صاحب کو ایک ہزا ر دیا گیا تھا کہ امید یہی تھی پانچ پانچ سوجرمانہ کرے اور ایک ہزار اور محفوظ رکھا گیا تھا کہ ممکن ہے ہزار ہزار کر دے