اصحاب احمد (جلد 2) — Page 463
463 حضرت ام المؤمنین اطال اللہ بقاء ہ کے کنگن غالباً مالیر کوٹلہ بھیجے کہ انہیں رہن رکھ کر پانصد روپیہ بھیج دیں۔آپ نے کنگن بھی واپس بھیج دئے اور اپنے ملازم دائی کے بیٹے اللہ بخش عرف اتو کے ہاتھ پانصد روپیہ حضور کی خدمت میں بھیج دیا چنانچہ مکتوبات سے بھی اس امر کی تصدیق ہوتی ہے کہ حضور بوقت ضرورت سلسلہ کے لئے روپیہ بھجوانے کی نواب صاحب کو تحریک فرماتے رہتے تھے۔گزشتہ اوراق میں بعض اقتباسات جو نقل ہوئے ہیں ان میں ایسی تحریکات درج ہیں۔۱۲- بزرگان سلسلہ کی طرف سے تحریکات حضرت اقدس کے علاوہ دیگر بزرگان بھی آپ کو عملی خیرات کی تحریک کرتے رہتے تھے جو قبول حق کی وجہ سے مصائب میں گرفتاروں وغیرہ کی خود مالی اعانت کرنے یا کسی دوسرے سے امداد یا ملازمت دلوانے کے رنگ میں ہوتی تھی چنانچہ بطور نمونہ تین مکتوبات حضرت خلیفتہ اسی اول ذیل میں درج کئے جاتے ہیں۔تحریر فرماتے ہیں: نمبر ۲ کیونکہ مدارس میں جو نتیجہ نکلناممکن ہے عمدہ واعظ تعلیم یا فتہ گروہ کو ان مطالب میں ساتھ ملا سکتا ہے میں نے بڑے بڑے فکروں کے بعد واعظوں کا تیار کرنا ضروری خیال کیا ہے۔میں نے اس خیال پر ایک انجمن تجویز کی ہے جس میں امور ذیل کی تائید مد نظر ہے۔اول واعظ بنانا ، دوم نو مسلم لوگوں کی خبر گیری ، سوم موتفتہ القلوب کی پرورش، چہارم شرفا جو قادیان میں رہتے ہیں، ان کی خبر گیری، پنجم بتامی ششم مدرسة القرآن ، ہفتم وہ مسافر جو یہاں آتے ہیں ان کی امداد اگر ان کے پاس زادراہ نہ ہو۔غرض ایسے امور اس میں قائم کئے ہیں اطلاعا گزارش ہے چندہ مقرر نہیں ہوگا۔خدا بخش صاحب کے متعلق مکرم عرفانی صاحب تحریر فرماتے ہیں کہ وہ نواب صاحب کے ملازموں میں اتو کے نام سے مشہور تھا اور محمد اسمعیل کا بیٹا تھا یہ بھی پرانا ملازم نواب صاحب کا تھا بلکہ یہ لوگ نسلاً بعد نسل چلے آتے تھے۔مکرم میاں محمد عبد الرحمن خاں صاحب بیان کرتے ہیں کہ فوت ہو چکے ہیں احمدی نہ تھے ان کے بھائی عبدالعزیز کا بیٹا میرے پاس ملازم ہے یہ بھی فوت ہو چکے ہیں احمدی نہ تھے۔‘الحکم جلد ۵ نمبر ۳ صفحہ ۱۶ کالم ۳ پر مدرسہ تعلیم الاسلام کے لئے ان دونوں کی طرف سے چندہ درج ہے اور میاں صاحب موصوف بتاتے ہیں کہ یہ ان ہی دونوں کے نام ہیں۔