اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 445 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 445

445 سلسلہ کی ضروریات اور نواب صاحب کی مالی حالت ان مالی قربانیوں کی قدر و قیمت کا اندازہ لگانے کے لئے بعض باتیں ہمارے علم میں آنی ضروری ہیں۔اول جس زمانہ میں حضرت نواب صاحب نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں بے دریغ روپیہ خرچ کیا اس زمانہ میں روپیہ حد درجہ قیمتی تھا جس کا اندازہ اس امر سے ہوتا ہے کہ اس زمانہ میں بکرے کا گوشت پانچ پیسے سیر اور ایک بکرا دو روپے میں خریدا جاتا تھا۔اور آج کل گوشت پونے دو روپے سیر ہے اور اس نسبت سے بکرے کی قیمت کا اندازہ ہو جاتا ہے، دوم وہ زمانہ ایسا تھا کہ جس وقت اِنفاق فی سبیل اللہ سے دنیا تو کیا مسلمان بھی حد درجہ غافل تھے۔اور یہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں انفاق ان کے لئے موت احمر سے کم نہ تھا۔اسی لئے اس وقت دو پیسے یا ایک آنہ چندہ دینے والوں کے اسماء حضرت اقدس نے کتب میں درج فرمائے ہیں۔سوم حضرت نواب صاحب طبقہ رؤسا سے تعلق رکھتے تھے اور اس طبقہ کے افراد کے لئے ذاتی عیش و عم کی خاطر تو لاکھوں روپے بے دریغ خرچ کر دینا سہل ترین ہوتا ہے لیکن فی سبیل اللہ وہ لوگ اتنی خطیر رقوم ہرگز خرچ نہیں کرتے۔چہارم حضرت نواب صاحب کی مالی خدمات کے سلسلہ میں ہمیں جو کچھ علم ہوتا ہے وہ حضرت اقدس کے مکتوبات سے ہوتا ہے اور یہ امر کسی طور پر ممکن نہیں کہ ہر مالی خدمت پر حضرت اقدس نے کوئی مکتوب ارسال کیا ہو۔یا تمام مکتوبات محفوظ ہی ہوں۔پنجم سلسلہ احمدیہ کا آغاز بیعت یعنی مارچ ۱۸۸۹ء سے شروع ہوا۔اور قریباً دس سال بعد سلسلہ کی ایک سال کی آمد صرف پانچ ہزار دوسور و پی تک پہنچتی تھی۔جیسا کہ انکم ٹیکس کے مقدمہ میں حضرت اقدس کے اظہار سے ثابت ہے جس کا ذکر ضرورۃ الامام میں آتا ہے اور حضرت اقدس کے مکتوب نمبر ۶۰ سے ( جو اس کے بعد دئے جانے والے اشتہار مندرجہ ذیل ضمیمہ الحکم بابت ۰۲-۶-۲۴ کی وجہ سے فروری ۱۹۰۲ء کا معلوم ہوتا ہے ) اندازہ ہوتا ہے کہ اس وقت بارہ ہزار روپیہ سالانہ سلسلہ کی آمد ہوگی۔سلسلہ کے لئے روپیہ کی جس قدر ضرورت تھی اور حضرت اقدس کو اس وجہ سے جس قدر پریشانی تھی اس کا اندازہ مکتوب نمبر ۶۰ وغیرہ سے بقیہ حاشیہ : - تھے تبھی حضرت مولوی صاحب نے متعارف شکر یہ ادا نہ کرنے کی وجہ بتائی ہے۔چنانچہ الحکم بابت ۱۰ را پریل ۱۹۰۰ء صفحہ ا کالم اسے اس کی تصدیق ہوتی ہے۔اس میں حضرت مولوی صاحب کی تحریک پر نواب صاحب کے مدرسہ کے لئے پانچ صد روپیہ بھیجنے کا ذکر ہے۔ویسے ۱۹۰۱ء میں نواب صاحب نے پانچصد اور پھر پچاس روپے مدرسہ کے لئے جو چندہ دیا تھا وہ جنوری کا واقعہ ہے نہ کہ مارچ کا جیسا کہ الحکم بابت ۰۱-۱-۱۰ میں مرقوم ہے۔