اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 446 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 446

446 ہوتا ہے جن کو مدرسہ تعلیم الاسلام کے ذکر میں درج کیا گیا ہے۔ششم اس مقدمہ کے دو سال بعد یعنی ۱۹۰۰ء کے اواخر سے حضرت نواب صاحب نے ایک ہزار روپیہ سالانہ مدرسہ تعلیم الاسلام کے لئے دینا شروع کیا بلکہ اسے بارہ صد سالانہ تک کر دینے کا وعدہ کیا۔ہفتم یہ ایک ہزار۔بارہ صد روپیہ صرف مدرسہ کی اعانت تھی چندہ لنگر خانہ وغیرہ اور غریب مہاجرین اور طالب علم اور نادار مہمانوں کی اعانت اس کے علاوہ تھی۔ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ تمام جماعت احمد یہ ان ایام میں جس قدر چندہ دے سکتی تھی اس کا چوتھا یا پانچواں حصہ حضرت نواب صاحب کی طرف سے حاصل ہوتا ہوگا۔ہشتم حضرت نواب صاحب کی یہ مالی اعانت باوجود اس امر کے ہوتی تھی کہ آپ شدید مالی پریشانیوں میں عرصہ دراز تک مبتلا ر ہے اور ان حالات کا علم ہمیں حضرت اقدس کے مکتوبات سے بھی ہوتا ہے چنانچہ حضور تحریر فرماتے ہیں۔نحمده ونصلى على رسوله الكريم بسم الله الرحمن الرحيم مجھی عزیزی اخویم نواب صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔اس سے پہلے جواب اں محبت بھیجا گیا ہے جواب کا منتظر ہوں کیونکہ وقت بہت تھوڑا ہے مجھے آپ کے لئے ایک خاص توجہ خدا نے پیدا کر دی ہے۔میں دعا میں مشغول ہوں اللہ تعالیٰ آپ کو تمام ترددات سے محفوظ رکھ کر کامیاب فرمادے۔آمین۔اخویم مولوی سید محمد احسن صاحب قادیان تشریف رکھتے ہیں اور اپنے وطن سے بغیر بندوبست مصارف عیال کے ضرور تا امرتسر میں آگئے تھے اور پھر قادیان آئے۔ان کے تمام عیال داری کے مصارف محض آپ کے اس وظیفہ پر چل رہے ہیں جو آپ نے تجویز فرما رکھا ہے اگر چہ ایسے امور کو لکھتے لکھتے جب آپ کی وہ مالی مشکلات یاد آ جاتی ہیں جن کے سخت حملہ نے آپ پر غلبہ کیا ہوا ہے تو گوکیسی ہی ضرورت اور ثواب کا موقعہ ہو تو پھر بھی قلم ایک دفعہ اضطراب میں پڑ جاتی ہے۔لیکن بایں ہمہ جب میں دیکھتا ہوں کہ میں آپ کے لئے حضرت احدیت میں ایک توجہ کے ساتھ مصروف ہوں اور میں ہرگز امید نہیں رکھتا کہ دعائیں خالی جائیں گی۔تب میں ان چھوٹے چھوٹے امور کی پروا نہیں کرتا۔بلکہ اس قسم خیال قبولیت دعا کے لئے راہ کو صاف کرنے والے ہیں یہ تجربہ شدہ نسخہ ہے کہ مشکلات کے وقت حتی الوسع ان در ماندوں کی مدد کرنا جو مشکلات میں گرفتار ہیں دعاؤں کے قبول ہونے کا ذریعہ ہے مولوی سید محمد احسن صاحب گزشتہ عمر تو اپنے محنت بازو سے بسر کرتے رہے اب کوئی بھی صورت معاش نہیں، درحقیقت عیالداری بھی ایک مصیبت ہے۔میں ان ترددات میں خود صاحب تجربہ ہوں میں دیکھتا ہوں کہ ہر مشکل کے وقت جب کہ مہینہ ختم ہو جاتا ہے اور پھر نئے سرے ایک مہینے کے لئے دوسوروپیہ کے آر دخشکہ اور دوسرے اخراجات کا فکر پڑتا ہے جو معمولی طور پر ا یک ہزار روپیہ کے قریب قریب ماہوار ہوتے رہتے ہیں۔تو کئی دفعہ خیال آتا ہے کہ کیسے آرام میں وہ