اصحاب احمد (جلد 2) — Page 434
434 ہیں۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے جن کے رشتہ دار نیک ہوں گے ان کے پاس وہ جنت میں رکھے جائیں گے۔میں نے کہا ہوا ہے کہ وہ لوگ جو جماعت میں سے دین کی خاص طور پر خدمت کرنے والے ہوں گے میں ان کا جنازہ غائب پڑھا کروں گا۔مگر اپنا بچہ اگر ایک سانس لے کر بھی فوت ہو جائے تو اس کا جنازہ پڑھوں گا کیونکہ رشتہ داری کا بھی حق ہوتا ہے۔ہماری ایک چھوٹی ہمشیرہ جب فوت ہوگئی تو دوسرے دوست اسے اٹھا کر قبرستان تک لے گئے۔راستہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا مجھے دیں میں اٹھاؤں ، اٹھانے والے نے ادب کے طور پر کہا حضور میں ہی اٹھائے چلتا ہوں۔آپ نے اس بات کو نا پسند کیا اور فرمایا کیا یہ میری لڑکی نہیں اور اس کا مجھ پر کوئی حق نہیں ہے؟ تو رشتہ داروں کے بھی حقوق ہوتے ہیں اگر وہاں جنازہ پڑھنے والے زیادہ لوگ ہوتے تو بھی رشتہ داری کے لحاظ سے ان کا جنازہ پڑھتا۔کیونکہ نواب صاحب میرے بہنوئی ہیں ، اور ان کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے بھی رشتہ ہے کہ آپ کے داماد ہیں۔ان دوہرے حقوق کی وجہ سے میں ان کی ہمشیرہ صاحبہ کا جنازہ پڑھاؤں گا۔اس کے علاوہ ان کی ہمشیرہ صاحبہ کو ایک خصوصیت بھی حاصل تھی اور وہ یہ کہ بہت کم عورتیں ایسی ہوتی ہیں جو ان کی طرح تحقیق کر کے ایمان لائیں اور پھر مضبوطی کے ساتھ اس پر قائم رہیں، ان کے لئے بہت سی وقتیں بھی تھیں، ان کے خاوند مالیر کوٹلہ کے بہت بڑے رئیس تھے، ان کی کئی لاکھ کی جاگیر تھی اور موجودہ وائی مالیر کوٹلہ کے چا تھے۔دیگر رشتہ دار بھی غیر احمدی تھے۔صرف نواب صاحب احمدی تھے۔چند سال ہوئے انہوں نے کہا میں تحقیق کر کے فیصلہ کرنا چاہتی ہوں اس کے لئے انہوں نے مولوی ثناء اللہ صاحب کو بلایا اور ان کے اخراجات انہوں نے خود اٹھائے اور یہاں سے میں نے شیخ عبدالرحمن صاحب مصری کو بھیجا جن کا کئی دن تک مولوی ثناء اللہ صاحب سے مباحثہ رہا۔آخر انہوں نے فیصلہ کیا کہ احمدیت سچی ہے۔اس وقت مولوی ثناء اللہ صاحب نے اعلان کیا تھا کہ مجھے مالیر کوٹلہ میں بڑی فتح حاصل ہوئی ہے اور احمدیوں کو شکست اٹھانی پڑی ہے۔لیکن جنہوں نے ان کو بلایا اور ان کے اخراجات برداشت کئے تھے ان کا یہ فیصلہ تھا کہ احمدیت کچی ہے انہوں نے اسی وقت احمدیت قبول کر لی تھی لیکن بعض مصلحتوں کی وجہ سے اس کا عام اعلان مناسب نہ سمجھا۔پارسال جب میں مالیر کوٹلہ گیا تو انہوں نے بیعت کر کے اپنا احمدی ہونا ظاہر کر دیا۔بیماری کے ایام میں بعض رشتہ داروں نے ان کے دل میں اس قسم کے شبہات ڈالنے کی کوشش کی جب کہ آپ احمدی ہوئی ہیں اسی وقت سے بیمار چلی آتی ہیں۔مگر ان باتوں کی انہوں نے کوئی پرواہ نہ کی اور اخلاص کے ساتھ احمدیت پر قائم رہیں، اس وقت میں ان کا جنازہ پڑ ہوں گا۔