اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 406 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 406

406 کرتے ہیں کہ ابتداء میں قادیان کے قصاب بیمار اور لاغر بکرے ذبح کرتے تھے۔اس امر کولوگوں کی صحت کے لئے حد درجہ مضر پا کر حضرت والد صاحب نے مکرم ڈاکٹر شیخ عبداللہ صاحب نو مسلم کو مقرر کر دیا تا کہ ذبح سے قبل جانوروں کا ڈاکٹری معائنہ ہوا کرے۔قصاب سارے غیر احمدی تھے۔بعض دفعہ وہ ہڑتال بھی کر دیتے تھے۔آپ انہیں بلا کر بڑی نرمی اور محبت سے سمجھاتے اور اگر انہیں زیادہ اصرار ہوتا تو انہیں بتاتے کہ اس میں تمہارا ہی فائدہ ہے ورنہ ہم بٹالہ وغیرہ سے دوسرے قصاب بھی بلوا سکتے ہیں چنانچہ وہ آپ کی گفتگو سے متاثر ہوتے اور عوام کی تکلیف کا ازالہ ہو جاتا۔مسجد مبارک کے پاس جو چوک ہے اس کی حالت بہت نا گفتہ بہ تھی۔زمین ناہموار تھی برسات میں دلدل بن جاتی تھی پانی نکلنے کے لئے کوئی منفذ نہ تھا۔حضرت والد صاحب نے مہمان خانہ سے اس چوک تک جہاں سے دارالانوار اور قصر خلافت کو راستے نکلتے ہیں اور مرزا نظام الدین صاحب کے مکان سے لے کر بک ڈپو کی دوکان تک اس جگہ کو ہموار کرا دیا اور پختہ نالیاں بنوائیں اور لوگوں کی اس تکلیف کو رفع کر دیا ، بعد میں حضرت نانا جان نے مہمان خانہ سے مسجد مبارک تک فرش لگوایا جس میں حضرت والد صاحب نے بھی کافی مالی حصہ لیا۔۱۹۱۸ء میں انفلوائنزا کی وبا ملک ہند میں پھیلی۔قادیان میں بھی اس قدر بیماری کا زور ہا کہ شاید ہی کوئی گھرانہ اس کے حملے سے محفوظ رہا ہو اور اس کے سارے افراد اس مرض میں گرفتار نہ ہوئے ہوں۔حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ بھی شدید طور پر علیل ہوئے۔آپ پر ضعف قلب اور بر داطراف کے شدید حملے ہوتے تھے۔باوجود ایسی علالت کے حضور نے اس مرض کے انسداد کے لئے ایک سکیم تیار کی اور ادویات کے لئے ایک معقول رقم حضور کو نواب صاحب نے پیش کی اور قادیان اور اردگرد کے دیہات کے مریضوں کے علاج کے لئے صدر انجمن کے شفا خانہ اور ڈسپنسری کے علاوہ ایک جدید شفا خانہ کھولا گیا جس کا انتظام حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کے سپر د تھا۔جہاں صاحبزادہ صاحب رات کے عموماً گیارہ اور بارہ بجے تک اپنے ہاتھ سے ادویہ دیتے تھے۔مرض کی شدت کا اس امر سے بخوبی اندازہ ہوسکتا ہے کہ حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ ایک روز رات کے دس بجے سے دن چڑھنے تک بیت الدعا میں مصروف دعا ر ہے۔بزرگوں کی خدمت PAY بزرگوں کی خدمت اس لئے نہیں ہوتی کہ وہ کسی خدمت کرنے والے کے محتاج ہیں بلکہ خدمت کرنے والا روحانی انتفاع کی خاطر نذر عقیدت کے رنگ میں یا تھا دوا تحابوا کے ارشاد نبوی کی تعمیل میں ہدیہ پیش