اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 401 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 401

401 اور شادی تک ان مرحوم ملازمین کے بچوں کے اخراجات کے کفیل رہے (م) حضرت اقدس کی نظر میں بھی نواب صاحب اپنے ملازمین سے بھی حسن سلوک سے پیش آتے تھے۔چنانچہ مرقوم ہے: " سیر سے واپس آکر شیخ عبدالرحمن ملازم خاں صاحب نواب محمد علی خاں صاحب رئیس اعظم مالیر کوٹلہ نے جو اپنی غلط فہمی اور کوتاہ اندیشی کی وجہ سے ان کی ملازمت سے مستعفی ہوئے تھے رخصت چاہی حضرت حجتہ اللہ نے ان کو مخاطب کر کے فرمایا۔ملازم کے لئے ملازمت سے پہلے ایسی جگہ دیکھ لینی چاہئے جہاں آقا نیک اور متقی ہو کیونکہ بندگی بیچارگی۔ملازم ناصح کا درجہ نہیں پاسکتا اس لئے بسا اوقات ایسے لوگوں کی ملازمت ہوتی ہے جہاں دین بر باد ہو جاتا ہے۔پس نواب صاحب کی ملازمت کو بہت ترجیح دینی چاہئے۔نواب صاحب ۲۸۳ بڑے صالح اور با مروت ہیں۔میری رائے میں بہتری یہی ہے کہ تم اپنے اس ارادہ پر نظر ثانی کر لو۔چنانچہ شیخ عبدالرحمن صاحب نے حضرت نواب صاحب سے اپنا استعفا واپس لینے کے لئے عرض کر دیا اور نواب صاحب موصوف نے اپنی عام فیاضی اور فراخ دلی سے ان کو پھر ملازم رکھ لیا۔“ شیخ عبدالرحمن صاحب مذکور کو نواب صاحب نے اولاد کے معمولی خادم کے طور پر ملازم رکھا ہوا تھا۔لیکن آپ کے دل میں ہر ایک ملازم کے لئے جذبہ شفقت و ہمدردی تھا۔آپ نے اپنا ملازم یا غریب شخص جان کر تبلیغ سے محروم نہیں رکھا بلکہ تبلیغ کی اور جب دیکھا کہ انہیں کچھ سمجھ نہیں آتا تو ان کے لئے دعا کی ان کو اور عبد اللہ صاحب عرب کو ایک روزہ 4 گھنٹے تبلیغ کی۔اللہ تعالیٰ نے فضل کیا اور ان دونوں نے دوسرے دن بیعت کر لی۔اس کی تفصیل تبلیغ کے عنوان کے تحت درج ہے۔آپ کی نگاہ الخلق عیال اللہ کے رنگ میں بنی نوع انسان کو دیکھتی تھی۔چنانچہ آپ اپنے ایک بیٹے کو تحریر فرماتے ہیں۔” میری طبیعت اللہ تعالیٰ نے ایسی بنائی ہے کہ مجھ کو اس کی تمام مخلوق سے محبت ہے اور پھر کسی سے ایسی محبت نہیں کہ وہ مجھ کو اللہ تعالیٰ سے بھلا دے۔فالحمد اللہ علی ذالک۔اس لئے اگر میں بیوی سے محبت کرتا ہوں تو اس لئے نہیں کہ وہ میری بیوی ہے بلکہ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ کو مجبور کیا ہے اس لحاظ سے بھی میری خیر خواہی بالکل بے لوث ہے۔میں ہمیشہ اپنے کم سے کم درجہ کے متعلق (کے) لئے ہر نماز میں دعا کرتا ہوں حتی کہ ہر یا خاکروب کے لئے بھی اور اس کے بیوی بچوں کے لئے بھی۔اس سے بھی تم کو میری ہمدردی کا پتہ لگ سکتا ہے۔“