اصحاب احمد (جلد 2) — Page 386
386 لائبریری میں موجود ہے مرحوم کی ہی عطا کردہ ہے۔حضرت مرحوم کسی نہ کسی عالم کو ہمیشہ تنخواہ دے کر اپنے پاس رکھتے اور دینی کتب سنتے رہتے تھے چنانچہ حضرت حافظ روشن علی صاحب سالہا سال مالیر کوٹلہ اور قادیان میں ان کے پاس رہے۔“ ۲۷۱ نیز مکرم مفتی صاحب فرماتے ہیں کہ آپ جس عالم کو اپنے ہاں رکھتے ان سے دینی علوم میں استفادہ بھی کرتے ذیل کے اقتباس سے اس کی تصدیق ہوتی ہے۔معزز الفضل میں مرقوم ہے۔نواب محمد علی خاں صاحب کی صحت اچھی ہے آپ حافظ روشن علی صاحب سے بخاری شریف سنتے ہیں۔“ ۲۷۲ مکرم مولوی غلام رسول صاحب را جیکی اس بارہ میں رقم فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ مجھے نواب صاحب کی کوٹھی دارالسلام جانے کا اتفاق ہوا تو نواب صاحب وہاں باغ میں ٹہل رہے تھے۔مجھے دیکھ کر میری طرف متوجہ ہوئے اور قریب آکر مصافحہ بھی فرمایا اور پھر ہمیں پچیس منٹ تک باغ میں ٹہلتے ہوئے میرے ساتھ بعض آیات قرآنیہ کے حقائق و معارف بھی بیان فرماتے رہے اور مجھ سے بھی سنتے رہے اور اس طرح یہ وقت ہمارے لئے علمی مذاکرات کے لحاظ سے نہایت ہی دلچسپی کا باعث ہوا۔اس سے میری طبیعت نے اندازہ لگایا کہ نواب صاحب با وجود یکہ آپ نواب خاندان کے ناز پروردہ اور بلحاظ دولت و ثروت و امارت پر عظمت ہستی کی طبیعت اور شان رکھنے والے تھے۔لیکن جب انہیں قریب ہو کر دیکھنے کا موقعہ ملا تو ایسا معلوم ہوا کہ آپ کی طبیعت کبر و خیلاء اور متکبرانہ نخوت و غرور کی آلائش سے بالکل پاک ہے اور یہ کہ آپ امیر ہو کر درویش سیرت فقیر بھی ہیں اور علمی مذاق اور دینداری کے لحاظ سے نہایت متشرع اور متورع اور محاسن فطرت اور حسن اخلاق سے مزین طبیعت رکھنے والے۔آپ خود ذی علم تھے اس لئے مسائل شرعیہ جو قابل تحقیق ہوتے ان کے متعلق آپ کا یہ طریق ہوتا کہ کسی فتوے پر انحصار کرنے کی بجائے مسئلہ زیر بحث کی تائید و تردید میں احادیث جمع کروا لیتے اور ان پر غور وفکر کر کے خود کسی نتیجہ پر پہنچتے اور استنباط کرتے۔(م) بچوں کے لئے تالیفات، بچوں کی تربیت کا شوق حضرت نواب صاحب کو بچوں کی تعلیم و تربیت کے لئے ابتدائی رسالے تالیف کرنے کا شوق تھا۔آپ نے ایک عربی اور اردو کا قاعدہ مدرسہ تعلیم الاسلام قادیان اور مدرستہ الاسلام مالیر کوٹلہ کی پہلی جماعت کے لئے تالیف کیا۔اسے رجسٹری کرایا گیا اور وہ ۲۳۰ کے سائز پر ۴۴ صفحات پر رفاہ عام پریس لاہور سے ۱۶