اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page xlii of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page xlii

ایک روایت افادہ کی خاطر یہاں درج کی جاتی ہیں۔حضرت نواب صاحب فرماتے ہیں۔غالباً پہلی یا دوسری دفعہ میرے قادیان آنے پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام مغرب کے بعد میرے ہاں تشریف لائے تو آپ موم بتی لے کر اس کی روشنی میں آئے۔میرے ملازم صفدر علی خاں نے چاہا کہ بتی کو بجھا دیا جائے تا کہ بے فائدہ جلتی نہ رہے اس پر آپ نے فرمایا جلنے دو روشنی کی کمی ہے۔دنیا میں تاریکی تو بہت ہے۔( قریب قریب الفاظ یہ تھے۔) -٢ ایک دفعہ مرزا خدا بخش صاحب کے ہاں بچہ پیدا ہوا۔انہوں نے لڈو میرے ہاں بھیجے میں نے واپس کر دیئے کہ عقیقہ کا کھانا تو میں لے لوں گا مگر یہ میں نہیں لیتا۔تھوڑے عرصہ بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام وہ رکابی خود لئے تشریف لائے اور فرمایا کہ بات ٹھیک ہے جو تم نے کہی۔یہ بچہ کی پیدائش کے لڈو نہیں بلکہ اُس شکریہ کے ہیں کہ ماں کی جان بچ گئی۔میں نے نہایت تکریم سے وہ رکابی لے لی۔اس وقت میرے مکان زنانہ کے صحن میں ایک دروازہ تھا اس پر کھڑے کھڑے یہ باتیں ہوئی۔۳۔”ایک دفعہ ابتداء میں جب میں قادیان میں مستقل طور سے رہنے لگا تو مرزا نظام الدین صاحب کے ہاں باہر سے برات آئی تھی ، اس کے ساتھ کہنی بھی تھی اور ناچ وغیرہ ہوتا تھا میں ایسی رسوم شادی وغیرہ ( میں ) نہ خود شریک ہوتا ہوں اور نہ ہی اپنی چیز دیتا ہوں۔مرزا نظام الدین نے مجھ سے غالباً کچھ دریاں اور چکیں مانگی تھیں۔میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے دریافت کیا۔آپ نے فرمایا دے دو کیونکہ اس شادی سے اغلب ہے دولھا کی اصلاح ہوگی۔“ شفقت کا ایک نظارہ کے ذیل میں مکرم میاں محمد عبد الرحمن خاں صاحب کی علالت اور حضرت اقدس کے شفقت بھرے خطوط کا ذکر کیا کیا گیا ہے۔میاں صاحب موصوف کو نواب صاحب جب قادیان لائے تو رات إ۳ بجے کا عمل تھا کہ حضرت اقدس اسی وقت تشریف لائے اور حال دریافت فرماتے رہے۔یہ بیان مکرم میاں محمد عبد اللہ خاں صاحب کا ہے جسے حاشیہ ص ۱۳۷ پر درج کیا گیا ہے۔اس بارہ میں مکرم میاں محمد عبد الرحمن خاں صاحب بیاں کرتے ہیں کہ ” میری صحت یابی کے بعد حضرت والد صاحب مجھے لاہور سے بٹالہ اس گاڑی پر لائے جو لاہور سے تین ساڑھے تین بجے شام روانہ ہوکر نو ساڑھے نو بجے رات بٹالہ پہنچتی تھی۔بٹالہ سے رتھ پر سوار ہو کر اڑھائی تین بجے رات ہم قادیان پہنچے۔