اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 369 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 369

369 آواز میں اٹھیں کہ میاں صاحب، میاں صاحب اور میں تو صاحبزادہ صاحب کے ہاتھ پر بیعت کرتا ہوں۔اس پر ہر طرف سے پہلے ہی بیعت ، بیعت ، میاں صاحب ، میاں صاحب کی آوازوں سے مسجد گونج اٹھی۔اور ایک محبت اور روحانی جوش کے ولولہ سے بے قرار ہو کر لوگ آگے بڑھے اور قبل اس کے کہ صاحبزادہ صاحب کچھ بولیں لوگ بیعت کے لئے ایک دوسرے پر مسابقت کرنے لگے جس پرانہوں نے بیعت لے لی۔“ حضرت مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب کا بیان ہے کہ بوقت بیعت’جب دیر تک کوئی آواز میرے کان الحکم جلده انمبر ۴ صفحه۲ پر چه ۲۱ مارچ ۱۹۱۴ء۔الفضل میں اس بارہ میں مرقوم ہے۔۴ ار مارچ عصر کی نماز کے وقت مسجد نور میں قریباً دو ہزار کے مجمع میں خلیفہ مسیح کی وصیت کے امین نواب محمد علی خاں صاحب نے وہ وصیت سنائی جو خلیفہ مسیح نے ۴ مارچ ۱۹۱۴ء کو بموجودگی قریب ایک سو آدمی کے جن میں مولوی محمد علی صاحب ، ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب، میاں معراج دین صاحب ، حضرت میاں صاحب بھی شامل تھے اپنے قلم سے لکھ کر نواب صاحب کے حوالہ بطور امانت کی تھی۔وصیت سنانے کے بعد نواب صاحب نے قوم کو مخاطب کر کے کہا کہ جو امانت حضرت خلیفہ مسیح نے میرے سپرد کی تھی اس کو میں نے پہنچا دیا ہے اب اس کے مطابق انتخاب کرنا آپ لوگوں کا کام ہے نواب صاحب یہ بات کہہ کر ابھی بیٹھنے ہی نہ پائے تھے کہ میاں صاحب میاں صاحب کی آوازیں بلند ہوئیں اور سب بانشراح صدر پکارا تھے کہ میاں صاحب ہماری بیعت لیں۔سب سے پہلے حضرت فاضل سید محمد احسن صاحب نے اٹھ کر کہا کہ میں وہ شخص ہوں کہ میری نسبت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ ان دوفرشتوں میں سے جن کے کندھوں پر مسیح کا نازل ہونا حدیثوں میں آیا ہے ایک فرشتہ (خاکسار) ہے۔- میں صاحبزادہ بشیر الدین محمود احمد صاحب کو ہر طرح اس قابل سمجھتا ہوں کہ وہ بیعت لیں اور ان کی خدمت میں عرض کرتا ہوں کہ وہ ہماری بیعت کو قبول فرما دیں۔مولوی محمد احسن صاحب ابھی کھڑے ہی تھے کہ چاروں طرف سے لوگ میاں صاحب کے ہاتھ پر بیعت کرنے کے لئے ایک دوسرے پر گرنے شروع ہوئے اور میاں صاحب کے ہاتھ کو اپنی طرف کھینچ کر بیعت کی درخواست کی اور جو کثرت اثر دھام کی وجہ سے قریب نہ پہنچ سکتے تھے انہوں نے اپنی پگڑیاں میاں صاحب تک پہنچائیں جولوگ اس وقت میاں صاحب کے قریب موجود تھے وہ عرض کرتے تھے کہ آپ بیعت شروع کریں لیکن آپ خاموش تھے۔بار بار باصرار عرض کرنے پر آپ نے۔۔۔بیعت لینی شروع کی۔“ ۲۶۵