اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 370 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 370

370 میں نہ پڑی تو میں نے بوجھ تلے دبا ہوا اپنا سر زور کر کے اٹھایا۔لوگوں کے ہاتھوں کی اوٹ دور کر کے جھانکا مظہر خلافت کی طرف نظر کی تو کیا دیکھتا ہوں کہ حضور گویا میری ہی تلاش میں تھے۔دیکھ کر فرمایا مولوی صاحب مجھے تو الفاظ بیعت بھی یاد نہیں۔بے خیالی میں اچانک اور غیر متوقع یہ بار مجھ پر آن پڑا ہے آپ الفاظ بیعت بولتے جائیں۔میں الفاظ بیعت بولتا گیا۔اور حضرت دوہراتے گئے۔اور اس طرح حضور نے بیعت لی۔“ بیعت کے بعد حضور نے لمبی دعا فرمائی اور پھر مختصر تقریر میں احباب کو اطاعت و فرمانبرداری کی تلقین کی۔۔۔۔۔۔۔اہلبیت حضرت خلیفہ اول کے اخراجات بحیثیت وصی ہونے کے نواب صاحب نے ذیل کی چٹھی حضرت خلیفہ اسی الثانی ایدہ الہتعالی کی خدمت میں اہلبیت حضرت خلیفتہ اسیح اول رضی اللہ عنہ کے اخراجات کے انتظام کے لئے لکھی۔بسم الله الرحمن الرحيم سیدی حضرت خلیق اسی اثنی علیہ السلام سلمکم اللہ علی خا السلام علیکم۔حضرت مولا نا مولوی نورالدین صاحب مرحوم مغفور خلیفتہ المسیح علیہ السلام اول کی وصیت جو میرے سپر د حضرت موصوف نے کی تھی اس کا ایک حصہ پورا ہو چکا ہے۔اب حصہ اول وصیت حضرت موصوف یعنی جو کچھ اولاد جائیداد کے متعلق درج فرمایا اس کا پورا کرنا ضروری ہے۔میرے خیال میں ایک کمیٹی مندرجہ شخصوں کی بنائی (جائے ) خاکسار بوجہ حامل وصیت ہونے کے۔مولوی سرور شاہ صاحب، پیر منظورمحمد صاحب، میاں عبدالحی صاحب مولوی شیر علی صاحب۔بی۔اسے یہ کمیٹی مندرجہ ذیل کام کرے اول- تحقیقات جائیداد حضرت خلیفہ ایج مرحوم مغفور۔دوم۔تمام اثاث البیت جس میں شرعا دخل جائز ہو اور کتب خانہ کی حفاظت اور فہرست مرتب کرے۔سوم گزارہ اہل بیت حضرت موصوف واولاد کے لئے تدابیر انتظام ومقدار گزارہ کی بابت تجویز کرے۔پس حضور اگر یہ مناسب تصور فرمائیں اس کی بابت مناسب حکم دیا جائے اور کمیٹی اگر یہی مناسب ہے پس اگر یہ دیا یہی ان کی بابت ورنہ جو مناسب ہوں ان کو مقررفرما ئیں اور سر دست ۲۰۰ روپیہ برائے اخراجات دے دیا جائے تا وقتیکہ مناسب انتظام ہو۔المرقوم ۲۱ مارچ ۱۹۱۴ء محمد علی خاں حضور نے اس پر تحریر فرمایا: السلام عليكم