اصحاب احمد (جلد 2) — Page 346
ہووے۔قرآن حدیث کا درس جاری رہے۔346 گواه شد محمد علی خان ۱۴-۳-۴ گواه شد مرزا یعقوب بیگ ۱۴-۳-۴ اس بارہ میں موقر الحکم رقمطراز ہے۔والسلام نورالدین - ۴ مارچ بعد اعلان گواه شد مرزا محمود احمد ۱۴-۳-۴ گواه شد محمد علی /۴ / مارچ ۱۹۱۴ء کو بعد نماز عصر یکا یک آپ کو ضعف محسوس ہونے لگا اسی وقت آپ نے مولانا مولوی سید سرور شاہ صاحب کو حکم دیا کہ قلم دوات لاؤ۔چنانچہ سید صاحب نے قلم دوات اور کا غذ لا کر آپ کی خدمت میں پیش کیا آپ نے لیٹے ہوئے ہی کاغذ ہاتھ میں لیا اور قلم لے کر لکھنا شروع کیا اس وقت بہت سے احباب مثلاً مولوی محمد علی صاحب، ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب، مولوی سید سرور شاہ صاحب ، قاضی سید امیرحسین صاحب،نواب محمد علی خاں صاحب، میاں عبدالحی صاحب، حضرت صاحبزادہ ڈاکٹر حافظ خلیفہ رشید الدین صاحب اور بہت سے بھائی قریباً جماعت قادیان کے سب لوگ موجود تھے اور باہر سے بھی میاں چراغ دین صاحب رئیس لاہور۔حکیم محمد حسین صاحب مرہم عیسے اور منشی محبوب عالم صاحب، چوہدری چھچھو خاں صاحب ملازم محکمہ جنگلات۔۔۔۔۔و غیر ہم موجود تھے۔اولاً آپ نے مختصر سا حصہ وصیت کا لکھا لیکن چونکہ قلم درست نہ تھا دیسی قلم منگایا گیا۔آپ نے ایک وصیت اپنے قلم سے تحریر کر دی اور مولوی محمد علی صاحب کو دی کہ وہ اسے سنا دیں۔چنانچہ انہوں نے بآواز بلند ا سے پڑھ کر سنا دیا۔پھر آپ نے فرمایا کہ تین مرتبہ سنا دو۔چنانچہ تین مرتبہ اس وصیت کو پڑھ کر سنایا گیا۔جب وصیت پڑھی جاتی تھی حاضرین پر رقت کا عجیب اثر تھا دل اور آنکھیں روتی تھیں اور خدا تعالیٰ کی عجیب قدرت کا مشاہدہ کر رہی تھیں۔۔۔غرض وصیت جو تین مرتبہ پڑھی جا چکی تو آپ نے فرمایا کہ نواب صاحب کے سپرد کر دو وہ اسے محفوظ رکھیں گے۔چنانچہ مولوی محمد علی صاحب نے حاضرین کی موجودگی میں اصل کا غذ نواب صاحب کے سپر د کر دیا۔پھر نواب صاحب نے عرض کیا کہ اس پر دستخط کرالئے جائیں اور اس مطلب کے لئے وصیت پھر حضرت کی خدمت میں پیش کی گئی۔آپ نے اس پر دستخط کر دئے۔جیسا کہ وصیت کے پڑھنے سے معلوم ہوگا۔بہر حال ۴ / مارچ ۱۹۱۴ء کو بعد عصر