اصحاب احمد (جلد 2) — Page 337
337 مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کی زبانی معلوم ہوا کہ حضور کو میرے عریضہ سے جو بجواب حضور کے والا نامہ بقیہ حاشیہ فرمایا مجھے شوق یہ ہے کہ میری جماعت میں تفرقہ نہ ہو۔دنیا کوئی چیز نہیں میں بہت راضی ہوں گا اگر تم میں اتفاق ہو۔سجدہ نہیں کر سکتا پھر بھی سجدہ میں تمہارے لئے دعا کرتا ہوں۔میں نے تمہاری بھلائی کے لئے بہت دعائیں کیں۔مجھے طمع نہیں۔پھر فرمایا مجھے تم سے دنیا کا طمع نہیں مجھے میرا مولیٰ بہت رازوں سے دیتا ہے اور ضرورت سے زیادہ دیتا ہے خبر دار جھگڑا نہ کرنا۔تفرقہ نہ کرنا اللہ تعالیٰ تمہیں برکت دے گا۔اس میں تمہاری عزت باقی رہے گی نہیں تو کچھ بھی باقی نہ رہے گا۔پھر فرمایا میں نے کبھی کسی کو حکم دیا ہے تو اپنے دلی طمع سے حکم نہیں دیا خدا کا حکم سمجھ کر دیا ہے۔نمازیں پڑھو ، دعائیں مانگو، دعا بڑا ہتھیار ہے۔تقویٰ کرو بس۔پھر فرمایا دعائیں مانگو نمازیں پڑھو۔بہت مسئلوں میں جھگڑے نہ کرو۔جھگڑوں میں بہت نقصان ہوتا ہے بہت جھگڑا ہوتو خاموشی اختیار کرو اور اپنے لئے اور دشمنوں کے لئے دعا کرو۔پھر فرمایالا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ اکثر پڑھا کرو۔قرآن کو مضبوط پکڑو۔قرآن بہت پڑھو اور اس پر عمل کرو۔پھر فرما یاد ضیت بالله ربا (و) بالاسلام دینا وبمحمد رسولا۔اس کے بعد میں نے پوچھا کہ کیا یہ لکھ دیا جاوے کہ یہی حضور کی وصیت ہے فرمایا ہاں فرمایا جاؤ حوالہ بخدا۔“ نوٹ۔حضرت نے جیسا کہ ان نصائح کا طرز بیان بتاتا ہے عام طور پر یہ فرمایا اور محض ڈاکٹر صاحب کے کہنے پر جیسا کہ ڈاکٹر صاحب نے خود ہی لکھا ہے کہہ دیا کہ یہ وصیت ہے۔یہ ایسی ہی وصیت ہے جیسی ایام جلسہ میں آپ نے فرمائی وَإِلَّا یہ امر صفائی سے سمجھ میں آسکتا ہے کہ ایک جانے والے آدمی کو خطاب کر کے وصیت نہیں ہوتی۔حضرت صاحب کا عام معمول ہے کہ جب کوئی دوست ان سے رخصت ہوا کرتا ہے کہ اوصیک بتقوى الله کہا کرتے ہیں۔اسی طرح اب بھی انہیں خطاب ہے۔پس یہ صرف عام نصیحت کے رنگ میں ہے۔وصیت کے لئے آپ نے ایک اور مرتبہ پہلے فرمایا تھا۔پس لفظ وصیت سے کوئی شخص دھوکا نہ کھاوے یہ سلسلہ کلام محض ایک خاص امر سے شروع ہوا اور یہ محض حضرت کی لاہوری دوستوں کو رخصتی نصیحت ہے۔احباب وصیت کے لفظ سے گھبرائیں نہیں گو بظاہر یہ ڈاکٹر صاحب کو خطاب اور وصیت ہے تاہم سب کے لئے یہ اسوۂ حسنہ اور واجب العمل ہے۔ہاں اس میں ہمارے لئے ہدایت اور نور ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں عمل کی توفیق دے۔آمین۔“ (ایڈیٹر ) الحکم جلد ۱۵ نمبر ۳ صفحہ ۸ بابت ۲۱ جنوری ۱۹۱۱ء ) سوائے مکرم ایڈیٹر صاحب الحکم کے اپنے الفاظ کے باقی الفاظ نصیحت بدر جلد ۱۰ نمبر ۱۳ صفحہ۱ ۲ پر چہ ۲۶ / جنوری ۱۹۱۱ء میں بھی چھپ چکے ہیں۔اس نصیحت سے قبل