اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 330 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 330

330 نے کئی بار اشار تا میری انجمن کی علیحدگی کو نا پسند فرمایا۔چنانچہ ایک روز حضور نے بحوالہ خط ڈاکٹر محمد حسین شاہ صاحب فرمایا کہ ڈاکٹر صاحب نے لکھا ہے کہ خان صاحب محمد ذوالفقار علی خاں صاحب نے مجھ کو آج نہایت شرمندہ کیا کہ میرے بھائی محمد علی خان نہ دنیاوی کاموں میں حصہ لیتے ہیں اور نہ دینی کاموں میں۔چنانچہ صدر انجمن میں بھی نہیں جاتے۔اسی طرح پھر ایک موقعہ پر شرکت کو فرمایا۔جب میں نے یہ دیکھا تو حضور سے دسمبر میں یہ عرض کیا کہ میں محض رفع فتنہ کے لئے اور اس لئے کہ ایک خیال کے آٹھ اصحاب تیرہ ممبروں میں سے ایک جانب ہیں اور اس طرح کثرت رائے ہمارے خلاف رہے گی۔انجمن میں جانا ترک کیا ہوا ہے تو حضور نے فرمایا تھا کہ علیحدگی بہتر نہیں باقی کثرت سے نہ ڈرو حق کی تائید کرو۔چنانچہ محض حضور کے حکم کی تعمیل میں انجمن میں جانا شروع کیا اب حضور خیال فرما سکتے ہیں کہ جب محض رفع فساد کے لئے انجمن میں شریک ہونا تک گوارا نہیں کیا تو پھر ہماری جانب سے یہ شر کس طرح پیدا ہوسکتا تھا۔پس میں حضور کی خدمت میں دادخواہ ہوتا ہوں کہ حضور اس مفتری سے جس نے مجھ پر یہ افترا باندھا ثبوت مانگ کر اس کو سزا دیں اور اگر میراقصور ثابت ہو تو پھر مجھ کو سزا دیں۔حضور خلیفہ ہیں اس معاملہ کی پوری تحقیق فرما کر قطعی فیصلہ فرما ئیں تا کہ پھر فتنہ پردازوں اور مفتریوں کو یہ موقعہ نہ ملے کہ اس طرح کسی پر افترا باندھیں۔میں پھر دوبارہ صاف صاف عرض کرتا ہوں کہ انجمن میں کوئی ایسا معاملہ پیش نہیں ہوا جس میں انجمن اور خلیفہ کے تعلقات پر بحث کی گئی ہو یا کی جاتی ہو۔اور جس میں میں محرک ہوں۔پس حضور خدا کے لئے میری داد کو پہنچیں۔حضور خوب جانتے ہیں کہ یہ انہی لوگوں کی شان ہے جو پہلے بار بار ایسی باتیں کرتے رہے ہیں اور پھر حیرت کہ حضور کے سامنے اپنے آپ کو بے لوث بھی ظاہر کرتے ہیں۔حضور پر ظاہر ہے کہ اس سلسلہ میں جس قدر لوگ ہیں۔ان کا کوئی تعلق دنیا وی نہیں اور اگر دوستی یا دشمنی یا اختلاف آپس میں ہے تو محض دین کے لئے ہے ورنہ دنیا وی دوستی دشمنی کے لئے پہلی برادریاں اور تعلقات کافی تھے تو پھر ہمارا کوئی اختلاف ہو دین کے سوا نہیں ہوسکتا تو پھر انجمن میں اگر کوئی بات ہوگی تو محض اپنے فرائض یا انجمن کے فائدہ کے متعلق ہوگی۔اب یہ بات کہ اصل واقعہ کیا ہے وہ یہ ہے اور اس سے انکار نہیں ہو سکتا کہ جب سے خلافت کا جھگڑا چھڑا ہے اس وقت سے دو خیال کے لوگ کئی لوگ ہو گئے ہیں اور یہ قابل افسوس امر ہے کہ کیوں دو خیال اب تک باقی ہیں لیکن بد قسمتی سے ایسا ہے ضرور بعض کا خیال ہے کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے بعد انجمن ہی خلیفہ ہے اور خلیفہ جو بنایا گیا ہے وہ ہمارا منتخب کردہ ہے اور اس کی اطاعت ہر بات میں ضروری نہیں۔گو خلیفہ موجودہ کی بزرگی کی وجہ سے اس کو خلیفہ بنایا گیا۔اور اس کی اطاعت کرتے ہیں یا اس کی سفارش مان لیتے ہیں مگر دراصل خلیفہ انجمن ہے اور آئندہ خلیفہ یا سرے سے نہ ہو یا اس کو ایسی وقعت نہ دی جاوے۔اور بعد میں