اصحاب احمد (جلد 2) — Page 320
320 والسلام نے ڈاکٹر عبدالحکیم پٹیالوی کو مرتد اور خارج از جماعت قرار دیا تھا۔اور اہلبیت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جن کو اللہ تعالیٰ نے مطہر قرار دیا تھا اور ان کی معیت کا وعدہ کیا تھا اور مبشر اولا د حضرت مصلح موعو ایدہ اللہ تعلی کی مخالفت پر کمر بستہ ہوا اوران کا شجر ایمان جسے عرصہ دراز سے گھن لگ پکا تھا آخر قیام خلافت ثانیہ پر نیچے آن گرا اور یہ لوگ ہمیشہ کے لئے جماعت سے الگ ہو گئے۔حضرت خلیفہ المسیح اول اپنے عہد میں ان لوگوں سے نرمی پر نرمی اور عفو، در گذرا ور چشم پوشی کا سلوک کرتے چلے گئے کہ شاید کسی وقت ان کی اصلاح ہو جائے لیکن افسوس انہوں نے اپنے اندر پاک تبدیلی نہ کی اور اس جماعت کو جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ پر جمع کیا تھا جسے اللہ کا ہاتھ کہا جاتا ہے اس گروہ نے اس میں تفرقہ پیدا کر دیا۔اس حقیقت کو ایک حد تک وہ خط و کتابت واضح کرتی ہے جو حضرت صاحبزادہ صاحب (خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ ) اور حضرت نواب صاحب کے مابین ہوئی اور جسے میں یہاں بِأصلها درج کر دیتا ہوں اور اس پر میں خود رائے زنی کرنا نہیں چاہتا بلکہ اسے پڑھنے والوں کی ضمیر پر چھوڑ دیتا ہوں۔ہاں اتنا میں نے ضروری سمجھا کہ بعض امور کی تکمیل بغرض تسلسل حاشیہ میں کر دی جائے۔حضرت صاحبزادہ صاحب تحریر فرماتے ہیں: Qadian 9th Oct 1909 بسم الله الرحمن الرحيم مکر می نواب صاحب السلام علیکم۔آپ کے خطوط گو برائے جواب نہ تھے اور آپ کی غرض جواب سے نہ تھی مگر میرا ارادہ تھا کہ میں جواب لکھوں۔بوجہ کثرت کام کے جواب نہ دے سکا کیونکہ رمضان میں سونا بھی ایک کام ہوتا ہے پھر تعلیم الگ رہی۔ہر روز ارادہ کرتا تھا مگر پھر رہ ہی جاتا تھا۔یہاں تک کہ کل تو پکا ارادہ کر کے بیٹھا مگر آخر شام ہو گئی اور لکھنے کا موقعہ نہ ملا۔آپ کو شاید معلوم نہ ہو کہ میں اعتکاف میں ہوں اور اس لئے اور بھی کم فرصتی ہوتی ہے۔آج ارادہ تھا کہ آپ کا محبت آمیز عتاب نامہ ملا۔اس لئے سب کام چھوڑ کر پہلے آپ کو اصل حالات سے آگاہ کرتا ہوں۔خیر خیریت تو والدہ کے خطوط سے مل ہی جاتی ہوگی میرا ارادہ بھی اس معاملہ کے متعلق خط لکھنے کا تھا سنیئے۔اس مکتوب کا چربہ دیا گیا تھا اس کا ایک حصہ اُڑ گیا اور دوبارہ مکتوب مل نہیں سکا اس لئے وہ حصہ بغیر چربہ کے درج کر دیا گیا ہے (مولف)