اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 307 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 307

307 پاس سے مدد کرے گا۔تیری وہ مدد کریں گے جن کے دلوں میں ہم آپ وحی کریں گے اور الہام کریں گے۔پس اس کے بعد میں ایسے لوگوں کو ایک مرے ہوئے کیڑے کی طرح بھی نہیں سمجھتا۔جن کے دلوں میں بدگمانیاں پیدا ہوتی ہیں۔اور کیا وجہ کہ اُٹھیں جب کہ میں ایسے ایسے خشک دل لوگوں کو چندہ کے لئے مجبور نہیں کرتا جن کا ایمان ہنوز نا تمام ہے۔مجھے وہ لوگ چندہ دے سکتے ہیں۔جو اپنے سچے دل سے مجھے خلیفہ اللہ سمجھتے ہیں اور میرے تمام کاروبار خواہ ان کو سمجھیں یا نہ سمجھیں۔ان پر ایمان لاتے اور ان پر اعتراض کرنا ہو موجب سلب ایمان سمجھتے ہیں۔میں تاجر نہیں کہ کوئی حساب رکھوں۔میں کسی کمیٹی کا خزانچی نہیں کہ کسی کو حساب دوں میں بلند آواز سے کہتا ہوں کہ ہر ایک شخص جو ایک ذرہ بھی میری نسبت اور میرے مصارف کی نسبت اعتراض دل میں رکھتا ہے اس پر حرام ہے کہ ایک کوڑی بھی میری طرف بھیجے۔مجھے کسی کی پرواہ نہیں جب کہ خدا مجھے بکثرت کہتا ہے گویا ہر روز کہتا ہے کہ میں ہی بھیجتا ہوں جو آتا ہے۔اور کبھی میرے مصارف پر وہ اعتراض نہیں کرتا تو دوسرا کون ہے جو مجھ پر اعتراض کرے ایسا اعتراض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی تقسیم اموال غنیمت کے وقت کیا گیا تھا۔سو میں آپ کو دوبارہ لکھتا ہوں کہ آئندہ سب کو کہہ دیں کہ تم کو اس خدا کی قسم ہے جس نے تمہیں پیدا کیا ہے اور ایسا ہی ہر ایک جو اس خیال میں ان کا شریک ہے کہ ایک حبہ بھی میری طرف کسی سلسلہ کے لئے بھی کبھی اپنی عمر تک ارسال نہ کریں پھر دیکھیں کہ ہمارا کیا حرج ہوا۔اب قسم کے بعد میرے پاس نہیں کہ اور لکھوں۔خاکسار مرزا غلام احمد “ ۲۴۵ محولہ بالا مکتوب میں حضرت مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب کے اس بیان کی بھی تائید ہوتی ہے جو انہوں نے مولوی محمد علی صاحب کو مخاطب کر کے تحریر کیا ہے کہ گجرات سے کڑیا نوالہ کو جاتے اور واپس آتے ٹانگہ کے بیٹیس چھتیس میل کے سفر بھر میں خواجہ کمال الدین صاحب نے آپ کو مخاطب کر کے میری موجودگی میں حضرت اقدس پر مالی اعتراضات کئے اور کہا: پہلے ہم اپنی عورتوں کو یہ کہکر کہ انبیاء اور صحابہ ولی زندگی اختیار کر نی چاہئے کہ وہ کم اور خشک کھاتے اور خشن پہنتے تھے اور باقی بچا کر اللہ کی راہ میں دیا کرتے تھے۔اسی طرح ہم کو بھی کرنا چاہئے۔غرض ایسے وعظ کر کے کچھ روپیہ بچاتے تھے اور پھر وہ قادیان بھیجتے تھے۔لیکن جب ہماری بیبیاں خود قادیان گئیں وہاں پر رہ کر اچھی طرح وہاں کا حال معلوم کیا تو واپس آکر ہمارے سر چڑھ گئیں کہ تم بڑے جھوٹے ہو ہم نے قادیان میں جا کر خود انبیاء اور صحابہ کی زندگی کو دیکھا ہے جس قدر آرام کی زندگی اور تعیش وہاں پر عورتوں کو حاصل ہے اس کا تو عشر عشیر بھی باہر نہیں۔حالانکہ ہمارا روپیہ اپنا کمایا ہوتا ہے اور ان کے پاس جو روپیہ جاتا ہے وہ قومی