اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 290 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 290

290 دونوں چیزیں ہیں اور اگر اللہ کے فضل سے ان پر قابو پا لیا جائے تو انسان کی بہت سی اصلاح ہو جاتی ہے خدا تعالیٰ اس دوسری چیز کے لئے تو فرمایا کہ تقویٰ کرو اور زبان کے لئے فرمایا کہ قولوا قولا سدیداس سے تمہارے گناہ بخشے جائیں گے آگے فرمایا کہ کس رنگ میں تقویٰ ہو ممکن ہے لوگ اپنے رسوم و رواج پر عمل کر کے ہی کہہ دیں کہ ہم تقویٰ کی راہ پر چل رہے ہیں اس لئے اس کی تشریح فرما دی و من يطع الله ورسوله یعنی تقوی اور قول سدید وہی ہے جو اللہ اور رسول کی اطاعت کے نیچے ہو اور قرآن اور سنت کے مطابق۔ان آیتوں کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک اور آیت بھی پڑھتے تھے۔اس میں بھی تقوی پر ہی زور دیا گیا وہ آیت یہ ہے يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ واتقوا الله ان الله خبير بما تعملون اس آیت میں حصول تقویٰ کا طریق بتایا ہے اور وہ دو طرح پر ایک ولتنظر نفس ما قدمت لغد یعنی ہر ایک نفس کو دیکھنا چاہئے کہ اس نے کل کے لئے کیا فکر کی اس سے اعمال کردہ کی جزا و سزا کی طرف توجہ دلا کر ہوشیار کیا ہے کیوں کہ نیکی بدی کی جزا سزا پر ایمان ہونے سے ضرور ہے کہ انسان تقومی کرے اور بدعملیوں سے بچنے کی کوشش کرے۔دوسرے ان الله خبير بما تعملون یعنی اللہ تعالی تمہارے اعمال سے خبر دار ہے۔خدا تعالیٰ کی صفت خبیر پر ایمان لانے سے بھی انسان میں تقویٰ پیدا ہو جاتا ہے کیونکہ جب انسان اس بات کا یقین کرے گا کہ خدا تعالیٰ میری ہر حرکت و سکون میرے ہر قول و فعل اور ہر نیت و عمل سے خبر دار اور آگاہ ہے تو وہ ضرور بدی سے بچنے کی کوشش کرے گا۔غرض تقویٰ کا ہونا نہایت ہی ضروری امر ہے اور تقویٰ کے بغیر سب کچھ بیچ۔لیکن یہ نکاح جس کا خطبہ پڑھنے کے لئے مجھے حکم دیا گیا۔اس کے متعلقین میں سے کوئی بھی ایسا نہیں کہ جو مجھ سے تقویٰ کی باتیں سننے کا محتاج ہو کیونکہ جو خدا تعالے کا رسول ہوتا ہے جب سب پاک ہدایتیں اور بچی علیمیں وہ خود دینے والا ہوتا ہے اور کوئی کام ایسا نہیں ہوتا جس میں رسول کی طرف سے کامل نمونہ پیش نہ ہوتا ہو تو اس نمونہ کے جب پہلے وارث یہی متعلقین ہیں پھر ان کو مجھ سے کچھ سنے کی احتیاج کیسے؟ خدا کا رسول ہر کام کا نمونہ اور زندگی کا طرز عمل اپنے نمونہ سے بتاتا ہے۔ہمارے سامنے اول آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ حسنہ ہے اور آپ کے بعد آج پھر تازہ ترین ہمارے سامنے ایک عظیم الشان نبی (مسیح موعود ) کا نمونہ موجود ہے جس سے سب سے زیادہ مستفیض ہونے والے اہل بیت اور آپ کے تم تعلقین ہیں اس لئے اب کسی بات میں ان کی راہ نمائی کرنا اور خاندان نبوت کو ہدایت کے طور پر کچھ سنانا یہ ہمارا کام نہیں ہے اور نہ ہی خاندان نبوت ہماری تقریروں تحریروں اور ہدایتوں کا محتاج ہے بلکہ ہم خود ان کے محتاج ہیں اور