اصحاب احمد (جلد 2) — Page 267
267 اور حضرت اماں جان طال اللہ بقاء ہامالیر کوٹلہ برات میں شامل ہونے کے لئے پہنچے۔ہم نے علی گڑھ جانا تھا حضرت صاحبزادہ مرزا محمود احمد صاحب نے خطبہ نکاح پڑھنا تھا لیکن علی گڑھ سے اطلاع آئی کہ کچھ مہلت دی جائے لیکن والد صاحب نے بذریعہ تارا نہیں اطلاع دے دی کہ رشتے منسوخ سمجھے جائیں کیونکہ والد صاحب کو یقینی وجوہ سے معلوم ہوا کہ وہ ان ہی اقارب کے زیر اثر آگئے ہیں۔ان اقارب میں سے کسی نے جو اپنے ہاں رشتہ کرنا چاہتے تھے ایک اہلکار کو علی گڑھ بھیجا کہ انہیں رشتہ کرنے سے روکے (ان کیطرف سے بھی بعض قریبی رشتہ دار سخت مخالف ہو گئے تھے ) ہم سب طالب علم تھے تعطیلات ختم ہونے پر قادیان چلے آئے اور حضرت والد صاحب نے مالیر کوٹلہ سے حضرت خلیفہ اول کی خدمت میں لکھا کہ میں پہلے بھی اس بات کا خواہشمند تھا کہ میرے لڑکوں کے رشتے احمدیوں کے ہاں ہوں تا کہ ان میں دینی جذبہ قائم رہے اور وہ غیر احمد یوں کی طرف مائل ہوتے ہیں جو مجھے نا پسند ہے اب جو یہ رشتے ٹوٹے ہیں مجھے اس کی وجہ سے بہت تکلیف ہوئی ہے۔ہم درس میں گئے تو میاں محمد عبدالرحمن خاں صاحب اور میاں محمد عبد الرحیم خاں صاحب اور مجھے تینوں بھائیوں کو آپ نے مغرب کے بعد اپنے ہاں آکر ملنے کے لئے فرمایا ہم گئے تو آپ نے تین دفعہ فرمایا کہ مجھے تمہارے والد سے بڑی محبت ہے اور والد صاحب کا خط دکھایا اور کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ تمہارے رشتے احمدیوں کے ہاں ہوں اور ان کو ان رشتوں کے ٹوٹنے کی وجہ سے بہت تکلیف ہوئی ہے۔نوابوں اور رئیسوں کی طرف تم لوگ رغبت نہ کرو ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے عبرت کے طور پر قائم رکھا ہوا ہے۔یہ تباہ ہونے والے لوگ ہیں۔اُن کی بھی خیر نہیں جو ان سے واسطہ قائم کرے گا۔وہ بھی اپنے آپ کو تباہی کی طرف لے جائے گا۔تم مغرب اور عشاء کے درمیان دورکعت نفل پڑھا کرو اور دعا کیا کرو کہ اللہ تعالیٰ نواب صاحب کی مالی تکلیف دور کرے اور اپنے رشتوں کے لئے دعا کیا کرو کہ اللہ تعالیٰ بہتر جگہ کر دے۔میاں محمد عبد الرحمن خاں صاحب اور میاں محمد عبد الرحیم خاں صاحب کا تو مجھے علم نہیں۔میں کچھ عرصہ باقاعدہ نفل پڑھتارہا اور بہت دعائیں کیا کرتا تھا چونکہ حضرت خلیفہ اول جمعہ کے روز عصر سے مغرب تک مسجد میں یا اپنے گھر میں علیحدگی میں دُعا کیا کرتے تھے اس لئے جماعت میں بھی ایسی رو چلی ہوئی تھی میں بھی کبھی جنگل کی طرف چلا جاتا یا مکان پر ہی دعا کرتا۔ایک روز میں دو پہر کے وقت آرام کر رہا تھا۔کہ مجھے خواب میں کسی نے کہا حضرت مسیح موعود کے گھر میں۔حضرت خلیفہ اول نے جو فرمایا تھا مکرم میاں محمد عبد الرحمن خاں صاحب نے استفسار پر کہا کہ ”مجھے یہ بات یاد نہیں۔میاں محمد عبد اللہ خاں صاحب نے عمل کیا اور فائدہ بھی اٹھالیا۔“