اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 268 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 268

268 کہ ان نوابوں اور رئیسوں کی طرف رغبت نہ کرو جو ان سے تعلقات بڑہائے گا، اس کا بھی وہی حال ہوگا۔بعینہ پورا ہوا۔میرے دونوں بھائیوں کے نوابوں کے ہاں رشتے ہوئے اور ان کے ہاں کوئی اولاد نہیں ہوئی اور بفضلہ تعالیٰ ان تمام بیٹوں کی جن کے احمدیوں کے ہاں رشتے ہوئے اولا د ہے۔پہلے والد صاحب کو میاں محمد عبد الرحیم خاں صاحب کا رشتہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہاں کرنے کا خیال تھا۔لیکن ایک دفعہ مجھے ایک خط لکھا کہ جس میں تحریر تھا کہ میری دیرینہ خواہش تھی کہ میرے لڑکوں میں سے کسی کی شادی حضرت مسیح موعود کے گھر میں ہو۔پہلے میرا خیال تھا کہ عبد الرحیم خاں کے لئے پیغام دیا جائے لیکن اپنے لڑکوں میں سے تم کو اس قابل سمجھتا ہوں کہ تمہارا پیغام دوں لیکن اس کے متعلق تمہاری رائے پوچھنا چاہتا ہوں۔لیکن رشتہ کرنے سے پہلے تمہیں یہ سوچ لینا چاہئے کہ بہت ہی مشکل مرحلہ ہے جس میں سے تم گذرو گے۔اگر تم پورا حسن سلوک کر سکو گے اور اپنے آپ کو اپنی بیوی کے برابر نہیں سمجھو گے بلکہ اسے اللہ تعالیٰ کا محض فضل سمجھو گے۔تب اس امر کا تہیہ کرو ورنہ میں ڈرتا ہوں کہ کسی ابتلاء میں نہ پھنس جاؤ۔اور مجھے نصیحت کی کہ اپنے آپ کو ان کے برابر نہ سمجھنا۔مجھے چونکہ پہلے خواب میں آچکا تھا اور اس سے بڑھ کر میری خوش قسمتی کیا ہو سکتی تھی کہ میرا رشتہ حضور کے ہاں ہو۔میں نے والد صاحب کی تمام شرائط کو مانتے ہوئے ہاں کہہ دی اور بہت سوچ بچار اور استخارہ کے بعد یہ رشتہ ہو گیا۔اس سے پہلے نواب صاحب والی مالیر کوٹلہ نے حضرت نواب صاحب گولکھا تھا کہ میری ایک بیٹی اور دو بھانجیاں ہیں میں چاہتا ہوں کہ آپ کے تینوں بیٹوں سے بیاہ دی جائیں۔لیکن آپ نے کہا کہ آپ اس خیال کو حرف غلط کی طرح دل سے مٹادیں لیکن بعد میں بہت زور دینے پر مکرم میاں محمد عبد الرحمن خاں صاحب کے لئے رشتہ منظور کر لیا۔سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ فرماتی ہیں کہ نواب صاحب ابھی اس رشتہ کے مخالف تھے کہ مجھے خواب آیا کہ محمودہ بیگم ان کی بہو بیت الدعا میں بیٹھی ہوئی ہیں حضرت خلیفتہ ای اول تشریف لائے اور ان کے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیرا اور فرمایا کہ رشتہ کر لیں یہ اپنے باپ جیسی نہیں ہے۔چنانچہ محترمہ محمودہ بیگم صاحبہ بنت نواب احمد علی خاں صاحب مرحوم والی مالیر کوٹلہ سے وا کو نکاح ہوا اور میاں عبدالرحمن خاں صاحب ذکر کرتے ہیں کہ وہ گو اپنے والد صاحب کے کہنے کی وجہ سے احمدیت میں داخل نہیں ہوئیں لیکن احمدیت کے متعلق خیالات کے لحاظ سے اپنے والد سے اچھی ہیں اور میاں محمد عبدالرحیم خاں صاحب ( حال ڈپٹی کمشنر کریم نگر ریاست حیدرآباد دکن ) کی شادی محترمہ قدسیہ بیگم صاحبہ بنت نواب جعفر علی خاں صاحب مالیر کوٹلہ سے ہوئی۔