اصحاب احمد (جلد 2) — Page 259
259 ہوا نکاح کی مسنون تقریب ادا کرنے کے لئے دار البرکات کا صحن تجویز ہوا تھا۔جہاں دارالامان کی موجودہ جماعت حاضر ہوئی اور حضرت حجۃ الاسلام امام ہمام علیہ الصلوۃ والسلام کی موجودگی میں حضرت حکیم الامت نے خطبہ نکاح پڑہا اور اس طرح پر یہ مبارک تقریب ادا ہوئی اس تقریب سے سلسلہ عالیہ احمدیہ کے ہر فر دکو جو مسرت ہوسکتی ہے وہ ایک ظاہر امر ہے۔میں بحیثیت خادم قوم حضرت حجتہ اللہ مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور بقیہ حاشیہ: - اور جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تم تقویٰ اختیار کرو اور سیدھی بات بولوتو خدا تعالے تمہاری کمزوریوں کو معاف کرے گا اور تمہاری غلطیوں کی سنوار اور اصلاح ہو جائے گی انسان کو چاہئے کہ ہر وقت اپنے اعمال کی اصلاح میں کوشش کرتا رہے۔جب مرنے کا وقت قریب آتا ہے تو انسان کے حقیقی اعمال جو خدا تعالیٰ کے نزدیک پسند یا غیر پسند ہوں پیش ہوتے ہیں نہ کہ وہ اعمال جو لوگوں کے سامنے وہ دکھاتا ہے اور ظاہر کرتا ہے۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تقویٰ اختیار کرو اور خدا تعالیٰ کے اس احسان کو یاد کرو کہ اس نے آدم کو پیدا کیا اور اس سے بہت مخلوق پھیلائی اور حضرت ابراہیم علیہ السلام والبرکات پر اس کا خاص فضل ہوا۔اور ابراہیم کو اس قد را ولا ددی گئی کہ اس کی قوم آج تک گئی نہیں جاتی اور ہماری خوش قسمتی ہے کہ خدا نے ہمارے امام کو بھی آدم کہا ہے اور بَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا کی آیت ظاہر کرتی ہے کہ اس آدم کی اولا د بھی دنیا میں اسی طرح پھیلنے والی ہے۔میرا ایمان ہے کہ بڑے خوش قسمت وہ لوگ ہیں جن کے تعلقات اس آدم کے ساتھ پیدا ہوں۔کیونکہ اس کی اولا د ( میں ) اس قسم کے رجال اور نساء پیدا ہونے والے ہیں جو خدا تعالیٰ کے حضور میں خاص طور پر منتخب ہو کر اس کے مکالمات سے مشرف ہوں گے۔مبارک ہیں وہ لوگ۔مگر یہ باتیں بھی پھر تقویٰ سے حاصل ہوسکتی ہیں اور تقویٰ کے ذریعہ سے فائدہ پہنچا سکتی ہیں کیونکہ خدا کسی کا رشتہ دار نہیں ہے۔مجھے سب سے بڑھ کر جوش اس بات کا ہے کہ میں مسیح موعود کی بیوی بچوں۔متعلقین اور قادیان میں رہنے والوں کے واسطے دعائیں کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ ان کو رجالاً کثیراً اور تقوی اللہ والے کا مصداق بنائے۔آج کی تقریب ایک خاص خوشی کا موقعہ ہے اور خاص خوشی۔خان صاحب نواب محمد علی خاں کے لئے ہے کہ خدا نے اپنے فضل سے ان کی قسمت میں یہ بات کر دی کہ وہ اس تعلق میں شمولیت حاصل کریں۔آج یہ تقریب ہے کہ ہمارے امام آدم وقت کے اس شریف لڑکے کا نکاح نواب صاحب کی اکلوتی بیٹی زنیب کے ساتھ کیا جاتا ہے اور اس کا مہر وہی ایک ہزار روپیہ مقرر کیا جاتا ہے جو کہ حضرت کے دوسرے لڑکوں کا مقرر ہوا ہے۔کہ آپ کو ( نواب صاحب کی طرف توجہ کر کے ) منظور ہے؟ ( نواب صاحب نے کہا منظور ہے۔پھر صاحبزادہ شریف احمد صاحب سے پوچھا گیا اس نے بھی کہا منظور ہے ) اس کے بعد حضرت نے بمعہ جماعت دعا کی۔“