اصحاب احمد (جلد 2) — Page 256
256 اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَا تَقْفُ مَالَيْسَ لَكَ بِهِ عِلم یعنی ان باتوں کے پیچھے مت پڑ جن کا تجھے علم نہیں پس ہمیں کیا علم ہے کہ سال آئندہ میں ہم زندہ ہوں گے یا نہ ہوں گے اور جب قائم مقاموں کے ہاتھ میں بات جاتی ہے تو وہ اپنی ہی رائے کو پسند کرتے ہیں۔میں نے یہ محض میں نے اپنی رائے لکھی ہے اور آپ اپنی رائے اور ارادہ میں مختار ہیں۔خاکسار مرزا غلام احمد ۸/نومبر ۱۹۰۶ء ۲۰ ماه رمضان المبارک ۱۳۲۴ ء 198 اعلان نکاح چنانچہ نکاح کا اعلان ہوا۔اس بارہ میں معزز ایڈیٹر صاحب الحکم تحریر فرماتے ہیں: قران السعدین حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زبان سے حمد رب العالمین تجھے حمد و ثناء زیبا ہے پیارے کہ تو نے کام سب میرے سنوارے ہیں وہ سب جیسے ستارے ترے احساں مرے سر پر ہیں بھارے گڑھے میں تو نے سب دشمن اتارے ہمارے کر دیئے اونچے منارے مقابل میں مرے یہ لوگ ہارے کہاں مرتے تھے تو نے ہی مارے شریروں پر پڑے ان کے شرارے نہ ان سے رک سکے مقصد ہمارے انہیں ماتم ہمارے گھر میں شادی فسبحان الذي اخزي الادعادى ہم ذیل میں خطبہ نکاح درج کرتے ہیں۔حضرت مولوی نور الدین صاحب نے خطبہ نکاح کی مسنونہ آیات کی تلاوت کے بعد فرمایا ” خطبہ نکاح میں ان آیات کا پڑھنا مسنون ہے اور ہمیشہ سے مسلمانوں کا پر عملدرآمد چلا آیا ہے۔ان آیات میں تقویٰ کا حکم ہے تقویٰ سے مراد اول عقاید کی اصلاح ہے۔اللہ تعالیٰ کا نہ اس کی ذات میں کوئی شریک ہے نہ صفات میں کوئی شریک ہے اور نہ افعال میں کوئی شریک ہے۔عبادت میں اس کا کوئی شریک بنانا نا جائز ہے یہ عقاید میں مرتبہ اول ہے اور مرتبہ دوم ملائکہ پر ایمان لانا ہے۔اس پر