اصحاب احمد (جلد 2) — Page xxix
۱۷ پر دنیا کے امن اور سکون کا باعث ہوتے ہیں۔یہ ضروری نہیں کہ ایسے لوگ بڑے لیکچرار ہوں ، ایسے لوگ خطیب ہوں۔یہ ضروری نہیں کہ ایسے لوگ پھر پھر کر لوگوں کو تبلیغ کرنے والے ہوں ان کا وجود ہی لوگوں کے لئے برکتوں اور رحمتوں کا موجب ہوتا ہے اور جب کبھی خدا تعالیٰ کی طرف سے بندوں کی نافرمانی کی وجہ سے کوئی عذاب نازل ہونے لگتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس عذاب کو روک دیتا ہے اور کہتا ہے ابھی اس قوم پرمت نازل ہو کیونکہ اس میں ہمارا ایسا بندہ موجود ہے جسے اس عذاب کی وجہ سے تکلیف ہوگی۔پس اس کی خاطر دنیا میں امن اور سکون ہوتا ہے۔مگر یہ لوگ جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر ایمان لائے یہ تو اس عام درجہ سے بھی بالا تھے ان کو خدا نے آخری زمانہ کے مامور اور مرسل کا صحابی اور پھر ابتدائی صحابہ بننے کی توفیق عطا فرمائی اور ان کی والہانہ محبت کے نظارے ایسے ہیں کہ دنیا ایسے نظارے صد یوں دکھانے سے قاصر رہے گی۔پس یہ وہ لوگ ہیں جن کے نقش قدم پر جماعت کے دوستوں کو چلنے کی کوشش کرنی چاہیئے۔کہنے والے کہیں گے کہ یہ شرک کی تعلیم دی جاتی ہے یہ جنوں کی تعلیم دی جاتی ہے۔یہ پاگل پن کی تعلیم دی جاتی ہے۔مگر حقیقت یہ ہے کہ پاگل وہی ہیں جنہوں نے اس رستہ کو نہیں پایا اور اس شخص سے زیادہ عقلمند کوئی نہیں جس نے عشق کے ذریعہ خدا اور اس کے رسول کو پالیا اور جس نے محبت میں محو ہو کر اپنے آپ کو ان کے ساتھ وابستہ کر دیا۔اب اسے خدا سے اور خدا کو اس سے کوئی چیز جد انہیں کرسکتی کیونکہ عشق کی گرمی ان دونوں کو آپس میں اس طرح ملا دیتی ہے جس طرح ویلڈنگ کیا جاتا ہے اور دو چیزوں کو جوڑ کر آپس میں بالکل پیوست کر دیا جاتا ہے مگر وہ جسے محض فلسفیانہ ایمان حاصل ہوتا ہے اس کا خدا سے ایسا ہی جوڑ ہوتا ہے جیسے قلعی کا ٹا نکا ہوتا ہے کہ ذرا گرمی لگے تو ٹوٹ جاتا ہے مگر جب ویلڈنگ ہو جاتا ہے تو وہ ایسے ہی ہو جاتا ہے جیسے کسی چیز کا جزو ہو۔پس اپنے اندر عشق پیدا کرو۔اور وہ راہ اختیار کرو جو ان لوگوں نے اختیار کی پیشتر اس کے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے جو صحابی باقی ہیں وہ بھی ختم ہوجائیں۔۔۔۔یہ لوگ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہزاروں نشانوں کا چلتا پھرتا ریکارڈ