اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page xxviii of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page xxviii

۱۶ گئے کہ جب جنازہ اٹھایا گیا تو وہ بھی ساتھ ساتھ تھا۔راوی کہتا ہے کہ میں نے دیکھا وہ نماز جنازہ میں شریک ہوا قبر تک ساتھ گیا اور جب حضرت جنید بغدادی کو لوگ دفن کرنے لگے تو اس وقت بھی وہ اسی جگہ تھا جب لوگ حضرت جنید بغدادی کو دفن کر چکے تو اس نے آپ کی قبر پر کھڑے ہو کر یہ چار شعر کہے۔وَاسَفَا على فراق قوم والمدن والمزن والرواسي لم تَتَغَيَّر لنا الليالي هم المصابيح والحصون والخير والامن والسكون حتى توقهم المنون فكل جمر لنا قلوب وكل ماء لنا عيون اس کے معنے یہ ہیں کہ :۔ہائے افسوس ان لوگوں کی جدائی پر جو دنیا کے لئے سورج کا کام دے رہے تھے اور جو دنیا کے لئے قلعوں کا رنگ رکھتے تھے اور انہی کی وجہ سے خدا تعالیٰ کے عذابوں اور مصیبتوں سے دنیا کو نجات ملتی تھی وہ شہر تھے جن سے تمام دنیا آباد تھی وہ بادل تھے جو سو کبھی ہوئی کھیتیوں کو ہرا کر دیتے تھے وہ پہاڑ تھے جن سے دنیا کا استحکام تھا۔اسی طرح وہ تمام بھلائیوں کے جامع تھے اور دنیا ان سے امن اور سکون حاصل کر رہی تھی۔ہمارے لئے زمانہ تبدیل نہیں ہوا مشکلات کے باوجود ہمیں چین ملا۔آرام حاصل ہوا اور دُنیا کے دُکھوں اور تکلیفوں کے لئے ہمیں گھبراہٹ میں نہ ڈالا مگر جب وہ فوت ہو گئے تو ہمارے سکھ بھی تکلیفیں بن گئے اور ہمارے آرام بھی دُکھ بن گئے۔۔۔پس اب ہمیں کسی آگ کی ضرورت نہیں کیونکہ ہمارے دل خود انگارا بنے ہوئے ہیں اور ہمیں کسی اور پانی کی ضرورت نہیں کیونکہ ہماری آنکھیں خود بارش برسا رہی ہیں۔یہ ایک نہایت ہی عجیب نقشہ ایک صالح بزرگ کی وفات کا ہے اور کہنے والا کہتا ہے کہ یہ اشعار اس مجذوب نے کہے اور پھر وہ وہاں سے چلا گیا۔جب دوسرے دن اس کھنڈرکو دیکھا گیا تو وہ خالی تھا اور مجذوب اس ملک کو ہی چھوڑ کر چلا گیا تھا۔تو یہ لوگ جنہیں خدا تعالیٰ کے انبیاء کی صحبت حاصل ہوتی ہے۔یہ لوگ جو خدا تعالیٰ کے انبیاء کا قرب رکھتے ہیں خدا تعالیٰ کے نبیوں اور اس کے قائم کردہ خلفاء کے بعد دوسرے درجہ