اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 236 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 236

236 خاندان میں حق مہر کے متعلق دستور ہوتا ہے کہ کئی کئی لاکھ روپے مقرر کیا جاتا ہے اور انہوں نے اپنی قومی رسم کے مطابق اب بھی یہی کیا تھا مگر حضرت اقدس نے پسند نہ فرمایا تا ہم نواب صاحب کی وجاہت کے لحاظ سے چھپن بقیہ حاشیہ: - کمزوریوں اور اللہ تعالے کی ساری رضا مندیوں کو م أَعْلَمُ وَمَا لا أَعْلَمُ کے نیچے رکھ کر اور آئندہ کے لئے غلط کاریوں کے بدنتائج اور بداثر سے مجھے محفوظ رکھ اور آئندہ کے لئے ان بدیوں کے جوش سے محفوظ فرما۔یہ ہیں مختصر معنی استغفار کے پھر ایک اور بات بھی قابل غور ہے۔حضرت امام نے اس زمانہ کو امن کے لحاظ سے نوح کا زمانہ کہا ہے۔حضرت نوح نے جب اپنی قوم کو وعظ کیا اور خدا تعالے کا پیغام اسے پہنچایا تو کیا کہا اَسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كَانَ عَفَّارًا لا يُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُمْ مِدْرَارًا وَيُمْدِدْكُمْ بِأَمْوَالٍ وَّ بَنِينَ وَتَجْعَلُ لَّكُمْ جَنَّتٍ وَيَجْعَل لَّكُمْ أَنْهَارًا - استغفار کے برکات اور نتائج ان آیات میں حضرت نوح علیہ السلام نے انسانی ضروریات کی جہت سے بیان فرمائے ہیں غور کر کے دیکھ لو کہ انسان کو ان ہی چیزوں کی ضرورت دنیا میں نہیں ہے؟ پھر ان کے حصول کا علاج استغفار ہے۔امن کے زمانہ میں چیزوں میں گرانی ہوتی ہے اور یہ امن کے لئے لازمی امر ہے۔نادان کہتا ہے ایک وقت روپیہ کا من بھر گیہوں ہوتا تھا اور پانچ سیر گھی۔مگر وہ نہیں سمجھتا کہ وہ زمانہ امن کا نہ تھا۔اس لئے تبادلہ تجارت کے لئے لوگ گھر سے مال نکال نہ سکتے تھے۔اور جب امن ہوتا ہے تو تبادلہ اشیاء کی وجہ سے اموال بڑھ جاتے ہیں اور اس کے ساتھ ہی فضولیاں بھی بڑھتی ہیں۔غرض استغفار ایسی چیز ہے جو انسان کی تمام مشکلات کے حل کے لئے بطور کلید ہے اس لئے خدا تعالیٰ کی حمد اور اس کی استعانت کے لئے استغفار کرو۔مگر استغفار بھی اس وقت ہوتا ہے جب اللہ تعالے پر ایمان ہو اس لئے فرمایا ونومن به اور ہم اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتے ہیں کہ وہ جمیع صفات کا ملہ سے موصوف اور تمام بدیوں سے منزہ ہے وہ اپنی ذات میں اپنے صفات میں اسماء اور محامد اور افعال میں وحدہ لاشریک ہے وہ اپنی ذات میں یکتا ہے۔صفات میں بے ہمتا اور افعال میں لیس کمثله شی اور بے نظیر ہے اور اس بات پر بھی ایمان لاتے ہیں کہ وہ ہمیشہ اپنی رضامندی اور نارضامندی کی راہوں کو ظاہر کرتا رہا ہے اور ملائکہ کے ذریعہ اپنا کلام پاک اپنے نبیوں اور رسولوں کو پہنچاتا رہا ہے۔اور اس کی بھیجی ہوئی کتابوں میں آخری کتاب قرآن شریف ہے جس کا نام فضل۔شفاء۔رحمت اور نور ہے اور آخری نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جو خاتم النبیین ہیں اور اب کوئی نبی اور رسول آپ کے سوا نہیں ہو سکتا اس وقت بھی جو آیا وہ آپ کا غلام ہو کر آیا ہے۔اللہ تعالیٰ پر ایمان کا یہ خلاصہ ہے۔ایمان باللہ جب کامل ہوتا ہے کہ اللہ تعالے پر بھروسہ ہو اس لئے یہ تعلیم دی ونتوكل عليه اور ہم اللہ تعالیٰ پر بھروسہ اور توکل کرتے ہیں تو کل سے یہ مطلب ہے کہ ہم میں یہ بات پیدا ہو کہ اللہ تعالیٰ نے جو چیزیں جس مطلب اور غرض کے لئے بنائی ہیں وہ اپنے نتائج اور ثمرات اپنے ساتھ ضرور رکھتی ہیں