اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 235 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 235

235 اپنی لڑکی نکاح میں دی تھی اور وہ بزرگ بہت ہی خوش قسمت تھا مگر ہمارے دوست نواب محمد علی خان صاحب اس سے زیادہ خوش قسمت ہیں کہ اُن کے نکاح میں ایک نبی اللہ کی لڑکی آئی ہے۔نواب صاحب موصوف کے بقیہ حاشیہ : - ہیں میں بھی ان ہی میں ہوں یہ اپنے رنگ میں الحمد کے معنے سمجھتے ہیں اور ان کی حمد اپنے رنگ کی ہے۔یہاں ناطے رشتے ہوتے ہیں اور ان تقریبوں پر مجھے حضرت امام کے حکم سے موقعہ ملتا ہے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کروں اس لئے میں اس فضل پر ہی حمد الہی کرتا ہوں۔میں یوں تو عجیب عجیب رنگوں میں حمد کرتا ہوں مگر اس وقت کے حسب حال یہی وجہ ہے جو میں نے بیان کی ہے اور یہ معمولی فضل نہیں ہے مگر یہ توفیق اور فضل اللہ ہی کی مدد سے ملتا ہے۔اس لئے نَسْتَعِينُه ہم اس کی مدد چاہتے ہیں خدا تعالے کی مدد بھی شامل حال ہو تو بات بنتی ہے۔ورنہ واعظ میں ریا۔سمعت۔دنیا طلبی پیدا ہوسکتی ہے اور وہ خدا تعالیٰ کو چھوڑ کر عاجز مخلوق کو اپنا معبود اور محبوب بنا لیتا ہے جب اس کے دل میں مخلوق سے اپنے کلام اور وعظ کی داد کی خواہش پیدا ہو۔واعظ کے لئے یہ امر سخت مہلک ہے۔پس میں خدا کی حمد کرتا ہوں اور اسی کے فضل سے حمد کرتا ہوں کہ اس نے محض اپنے فضل ہاں اپنے فضل ہی سے مجھے مخلوق سے مستغنی کر دیا ہے۔یہ بات بھی یا درکھنی چاہئے کہ خدا تعالیٰ کی مدد کب ملتی ہے۔یہ مدد اُسی وقت ملتی ہے۔جب انسان میں بدی نہ ہو۔بد کار ایک وقت نیکی بھی کر سکتا ہے مگر نیکی اور بدی کے میزان اور ہر ایک کی کثرت اور قلت اسے نیک یا بد ٹھہراتی ہے۔نیکیاں بہت ہوں تو نیک اور بدیاں زیادہ ہوں تو بد کار کہلاتا ہے بدی چونکہ بدی ہے اور درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے اس لئے جب حمد الہی کی توفیق اور جوش پیدا نہ ہو یا اللہ تعالے کی مد داور نصرت نہ ملے تو ایسی حالت میں ڈرنا چاہئے۔اور سمجھ لینا چاہئے کہ بدیاں بڑھ گئی ہیں۔اس کا علاج کرنا چاہئے اور وہ علاج کیا ہے استغفار۔اس لئے فرمایا نستغفرہ۔اللہ تعالیٰ کے وسیع قانون اور زبر دست حکم اس قسم کے ہیں کہ انسان بعض بدیوں اور کمزوریوں کی وجہ سے بڑے بڑے فضلوں سے محروم رہ جاتا ہے۔جب انسان کوئی غلطی کرتا ہے اور خدا تعالیٰ کیسی حکم اور قانون کی خلاف ورزی کرتا ہے تو وہ غلطی اور کمزوری اس کی راہ میں روک ہو جاتی ہے اور یہ عظیم الشان فضل اور انعام سے محروم کیا جاتا ہے۔اس لئے اس محرومی سے بچانے کے لئے یہ تعلیم دی کہ استغفار کرو۔استغفار انبیاء علیہم السلام کا اجماعی مسئلہ ہے۔ہر بنی کی تعلیم کے ساتھ اَسْتَغْفِرُوا رَبَّكُم ثُمّ تُوبُوا إِليه - رکھا ہے ہمارے امام کی تعلیمات میں جو ہم نے پڑھی ہیں استغفار کو اصل علاج رکھا ہے۔استغفار کیا ہے؟ پچھلی کمزوریوں کو جو خواہ عمد ا ہوں یا سہو غرض مَا قَدَّمَ وَمَا أَخَّرَ جو نہ کرنے کا کام آگے گیا۔اور جو نیک کام کرنے سے رہ گیا ہے۔اپنی تمام