اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 224 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 224

224 ہو جانے کی سخت خواہش پیدا ہو گئی تھی۔پھر حضرت خلیفہ اول کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ آپ کا اشارہ ہی میں سمجھ گیا تھا اور یہ معاملہ اس طرح ہوا۔وہاں سے قریباً جواب ہی ملا ہے۔انہوں نے فرمایا کہ آپ کہلا بھیجیں کہ جتنے سال بھی فرمائیں گے بڑی خوشی سے انتظار کروں گا۔اب یہ سلسلہ غالبا استاذی المکرم پیر منظور محمد صاحب کی معرفت چلا۔دوسری بار حضور نے فرمایا کہ کم از کم چار سال ( غالبا ) کو میں تو شادی کر سکتا ہوں۔حضرت خلیفہ اول نے سن کر فرمایا کہ سال کم تو ہوئے جو بھی فرما ئیں آپ منظور کر لیں۔آخر کار ایک دن خود ہی خط لے کر پیر محمد صاحب آگئے کہ اس شرط مہر پر رشتہ منظور ہے نکاح ہو جائے رخصتانہ ایک سال کے بعد۔اس وقت میری عمر صرف گیارہ سال بلکہ چند دن کم ہی تھی۔نکاح کی بابت خط و کتابت اس مبارک نکاح کے بارے میں جو خط و کتابت حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت نواب صاحب کے مابین ہوئی ہم ذیل میں درج کر دیتے ہیں۔نواب صاحب نے مالیر کوٹلہ جانے کی اجازت حاصل کرنے کے لئے حضور کی خدمت میں تحریر کیا۔بسم الله الرحمن الرحيم سیدی و مولائی طبیب روحانی سلمکم اللہ تعالے۔السلام علیکم۔میں نے چونکہ آج غسل کیا ہے۔اور سردی کی برداشت بہ سبب اس کے، ابھی نزلہ وغیرہ سے فارغ ہوا ہوں کہ نہیں ہے۔اس لئے سیر سے آج معافی چاہتا ہوں۔دوم۔چونکہ میری ابتلا ئیں آج کل بہت بڑھی ہوئی ہیں اور خصوصاً مالی مشکلات اس لئے اس انتظام کے لئے ضروری طور پر مجھ کو کوٹلہ جانے کی سخت ضرورت ہے۔میں اب تک جا بھی آیا ہوتا مگر بخار ہو جانے کی وجہ سے رک گیا۔اب چونکہ اچھا ہوں اور فصل کا موقعہ ہے وہاں میری سخت ضرورت ہے اس لئے چاہتا ہوں کہ اگر حضور اجازت فرمائیں تو کل کوٹلہ چلا جاؤں اور ۲۶ یا ۲۷ تک واپس آ جاؤں گویا اس طرح زیادہ سے زیادہ ایک ہفتہ لگے گا۔سوم۔چونکہ بعض اسباب ایسے پیش آگئے کہ بعض ملازم میرے ساتھ جائیں گے۔یہاں ملازموں کی کمی ہوگی اسلئے عرض ہے کہ ایک ہفتہ کے لئے اگر حضور نور محمد کو اجازت فرما دیں تو وہ میرے بچوں کے پاس ایک ہفتہ رہے۔چہارم۔رتھ کی بھی اجازت چاہتا ہوں۔پنجم۔حضور جانتے ہیں کہ سخت ابتلا کی وجہ سے میں ایسے نازک وقت میں جاتا ہوں ورنہ ایسے موقعہ میں رض