اصحاب احمد (جلد 2) — Page 223
223 سیده مبارکه بیگم صاحبہ کے رشتے کے لئے سلسلہ جنبانی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کیا خوب فرمایا ہے۔ترے اے مرے مربی کیا عجائب کام ہیں گرچہ بھا گیں جبر سے دیتا ہے قسمت کے ثمار حضور خود نواب صاحب کا رشتہ کسی اور جگہ کرنا چاہتے تھے لیکن اللہ تعالیٰ کی تقدیر اپنا کام کر رہی تھی۔پہلے ہم ذکر کر چکے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے نواب صاحب کی صاحبزادی کو اپنی بہو کے طور پر انتخاب فرمایا۔حضور نواب صاحب کے نکاح کے لئے بھی کوشش میں تھے۔حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کے بیان کے مطابق اس کی تفصیل یوں ہے کہ اس دوران میں نواب صاحب کی شادی کے ذکر کئی جگہ اٹھے کوئی نہ کوئی بات پیدا ہو کر ختم ہوئے۔غیر احمدی خاندان کی ایک لڑکی کو خود حضرت مسیح موعود نے ایک نظر حسب حکم شریعت کہلا بھی دیا مگر بعض وجوہ سے یہ رشتہ بھی نا پسند ہی رہا۔میری عمر اس وقت چھوٹی تھی۔مگر لڑکیاں اور خصوصاً اچھی اٹھان کی لڑکیاں بچپن کی حد سے نکل کر جب بڑھنے لگتی ہیں تو پھر واقعی لکڑی کی طرح بڑھتی ہیں۔اللہ تعالیٰ کی تقدیر یوں کام کر رہی تھی کہ ادھر ان کی شادی کا سوال ہر جگہ اُٹھ کر رہ جاتا تھا اور ادھر سال پلٹتے پلٹتے کافی بڑی ہو گئی تھی اور غالبا یہ دیکھ کر ہی کہ یہ سوال بھی قابل غور ہو سکتا ہے سب سے پہلے یہ خیال حضرت خلیفہ اول کے دل میں پیدا ہوا۔میاں فرماتے تھے کہ ایک جگہ خط لکھوانے کو میں حضرت مولوی صاحب کے پاس حاضر ہوا اور ذکر کیا تو بے دلی سے قلم اٹھا کر فرمایا کہ اچھا لکھ دیتے ہیں مگر دل نہیں چاہتا۔ہمارا تو کچھ اور دل چاہتا ہے۔مگر زبان جلتی ہے۔کہتے تھے جب آپ نے فرمایا کہ زبان جلتی ہے۔تو میں فور اسمجھ گیا اور پھر آپ سے پوچھا بھی نہیں کیونکہ آپ کے ادب کو میں جانتا تھا اور کہا کہ نہیں پھر آپ نہ لکھیں اور اٹھ کر آ گیا اور اس کے بعد قطعی اور طرف خیال ترک کیا ، دعا شروع کی۔مگر حضرت خلیفہ اول کے شاگرد تھے جائے ادب سمجھ کر زبان پر لفظ نہ لا سکتے تھے۔آخر جرات کی اور حضرت مولوی عبد الکریم صاحب رضی اللہ عنہ کی بیوہ حضرت مولویا نی صاحبہ سے ( جو اسی نام سے مشہور تھیں اور بہت ہمدردطبع تھیں اور اکثر نواب صاحب کے ہاں بوزینب صاحبہ کو دیکھنے جاتی تھیں۔بات کی اور سخت تاکید کردی کہ میرا نام نہ لینا اور پیام کی طرح سے نہ کہنا صرف اپنے طور پر عندیہ لینا کہ ایسا ہو سکتا ہے ؟ مگر وہ صاف گو اور حضرت سے بے تکلف تھیں میرا نام لے کر ہی کہ دیا اور آ کر بتلا بھی دیا اور کہا کہ حضور نے جواب دیا ہے کہ میری لڑکی ابھی چھوٹی ہے۔بیس سال کی عمر میں اس کی شادی ہم تو کریں گے وہ اتنا انتظار کر سکتے ہیں؟ گویا ایک ٹالنے کی ہی بات سمجھی جاسکتی تھی۔مگر کہتے تھے کہ اب میرے لئے بھی دوسری جگہ سوچنا تک مشکل ہو گیا تھا۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے تعلق پیدا