اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 165 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 165

165 ہے اور میری اوقات کو متنسوش کرتا ہے لیکن یہ غم بھی مجھ سے دیکھا نہیں جاتا اس لئے میں لکھتا ہوں کہ اس سلسلہ کہ جواں مرد لوگ جن سے میں ہر طرح امید رکھتا ہوں وہ میری التماس کو ردی کی طرح نہ پھینک دیں اور پوری توجہ سے اس پر کار بند ہوں۔میں اپنے نفس سے کچھ نہیں کہتا بلکہ وہی کہتا ہوں جو خدا تعالیٰ میرے دل میں ڈالتا ہے میں نے خوب سوچا ہے اور بار بار مطالعہ کیا ہے میری دانست میں اگر یہ مدرسہ قادیان کا قائم رہ جائے تو بڑی برکات کا موجب ہوگا اور اس کے ذریعہ سے ایک فوج نئے تعلیم یافتوں کی ہماری طرف ہو سکتی ہے اگر چہ میں یہ بھی جانتا ہوں کہ اکثر طالب علم نہ دین کے لئے بلکہ دنیا کے لئے پڑھتے ہیں اور ان کے والدین کے خیالات بھی اسی حد تک محدود ہوتے ہیں مگر پھر بھی ہر روز کی صحبت میں ضرور اثر ہوتا ہے اگر ہیں طالب علموں میں سے ایک بھی ایسا نکلے جس کی طبیعت دینی امور کی طرف راغب ہو جائے اور وہ ہمارے سلسلہ اور ہماری تعلیم پر عمل کرنا شروع کرے تب بھی میں خیال کروں گا کہ ہم نے اس مدرسہ کی بنیاد سے اپنے مقصد کو پا لیا۔آخر میں یہ بھی یادر ہے کہ یہ مدرسہ ہمیشہ اس ستم اور ضعف کی حالت میں نہیں رہے گا بلکہ یقین ہے کہ پڑھنے والوں کی فیس سے بہت سی مد دل جائے گی یا وہ کافی ہو جائے گی۔پس اس وقت ضروری نہیں ہوگا کہ لنگر خانہ کی ضروری رقوم کاٹ کر مدرسہ کو دی جائیں۔سو اس وسعت کے حاصل ہونے کے وقت ہماری یہ ہدایت منسوخ ہو جائے گی۔اور لنگر خانہ جو وہ بھی درحقیقت ایک مدرسہ ہے اپنے چہارم حصہ کی رقم کو پھر واپس پائے گا اور یہ مشکل طریق جس میں لنگر خانہ کو حرج پہنچے گا۔اس لئے میں نے اختیار کیا کہ بظاہر مجھے معلوم ہوتا ہے کہ جس قدر مدد کی ضرورت ہے شاید جدید چندہ میں وہ ضرورت پوری نہ ہو سکے لیکن اگر خدا کے فضل سے پوری ہو جائے تو پھر اس قطع برید کی ضرورت نہیں اور میں نے جو یہ کہا کہ لنگر خانہ بھی ایک مدرسہ ہے یہ اس لئے کہا کہ جو مہمان میرے پاس آتے جاتے ہیں جن کے لئے لنگر خانہ جاری ہے وہ میری تعلیم سنتے رہتے ہیں اور میں یقین رکھتا ہوں کہ جو لوگ ہر وقت میری تعلیم سنتے ہیں خدا تعالیٰ ان کو ہدایت دے گا اور ان کے دلوں کو کھول دے گا۔اب میں اسی قدر پر بس کرتا ہوں اور خدا تعالے سے چاہتا ہوں کہ جو مدعا میں نے پیش کیا ہے میری جماعت کو اسکے پورا کرنے کی توفیق دے۔اور ان کے مالوں میں برکت ڈالے اور اس کارخیر کے لئے ان کے دلوں کو کھول دے آمین ثم آمین۔والسلام علیٰ من اتبع الهدی الراقم میرزا غلام احمد۔۱۶ اکتوبر ۱۹۰۳ء 2 نوٹ : مدرسہ کے متعلق تمام زر چنده بنام خاں صاحب محمد علی خاں صاحب ڈائرکٹر مدرسہ آنا چاہئے اور تعلیم طلباء کے متعلق تمام خط و کتابت مفتی محمد صادق صاحب سپر نٹنڈنٹ کا لج تعلیم الاسلام سے ہونی چاہئے۔“