اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 161 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 161

161 اوور سیری کلاس کا اجراء آپ کی کوشش سے ماہ جون ۱۹۰۳ء سے مدرسہ مدرسہ تعلیم الاسلام میں ایک اوورسیئر طلباء کو نقشہ نویسی سکھلانے کے لئے متعین کئے گئے تا کہ اوورسیٹری وغیرہ امتحان کے لئے طلباء تیار کئے جاسکیں۔ارشاد حضرت اقدس درباره امداد مدرسه ۱۲۶ اس وقت مالی مشکلات میں کسی قسم کی تخفیف نہ ہوئی تھی لیکن باوجود اس کے نواب صاحب مدرسہ کی ترقی کے لئے ہر وقت کوشاں تھے۔چنانچہ اس وقت کالج بھی مدرسہ کے ساتھ کھل چکا تھا۔ان مشکلات کا ذکر آپ حضرت اقدس کے الفاظ میں سنیئے فرماتے ہیں: ارشاد حضرت اقدس مسیح موعود علیه السلام درباره امداد مدرسه تعلیم الاسلام قادیان بسم الله الرحمن الرحيم نحمده ونصلى على رسوله الكريم ایک ضروری امرا اپنی جماعت کی توجہ کیلئے اگر چہ میں خوب جانتا ہوں کہ جماعت کے بعض افراد ابھی تک اپنی روحانی کمزوری کی حالت میں ہیں۔یہاں تک کہ بعضوں کو اپنے وعدوں پر بھی ثابت رہنا مشکل ہے لیکن جب میں اس استقامت اور جانفشانی کو دیکھتا ہوں جو صاحبزادہ مولوی محمد عبد اللطیف مرحوم سے ظہور میں آئی تو مجھے اپنی جماعت کی نسبت بہت امید بڑھ جاتی ہے کیونکہ جس خدا نے بعض افراد اس جماعت کو یہ توفیق دی کہ نہ صرف یہ مال بلکہ جان بھی اس راہ میں قربان کر گئے۔اس خدا کا یہ صریح منشا معلوم ہوتا ہے کہ وہ بہت سے ایسے افراد اس جماعت میں پیدا کرے جو صاحبزادہ مولوی عبداللطیف کی روح رکھتے ہوں اور ان کی روحانیت کا ایک نیا پودہ ہوں جیسا کہ میں نے کشفی حالت میں واقعہ شہادت مولوی صاحب موصوف کے قریب دیکھا کہ ہمارے باغ میں سے ایک بلند شاخ سرو کی کاٹی گئی ہی اس سے پہلے ایک صریح وحی صاحبزادہ مولوی عبداللطیف صاحب مرحوم کی نسبت ہوئی تھی جب کہ وہ زندہ تھے۔بلکہ وہ قادیان ہی میں موجود تھے اور یہ وحی الہی میگزین انگریزی ماہ فروری ۱۹۰۳ء میں اور الحکم ۱۷ جنوری ۱۹۰۳ء اور البدر ۱۶ جنوری ۱۹۰۳ء کالم ۲ میں شائع ہو چکی ہے جو مولوی صاحب کے مارے جانے کے بارے میں ہے اور وہ یہ ہے قتل خیبَةً وَزِيدَ هَيْبَةً یعنے ایسی حالت میں مارا گیا کہ اس کی بات کو کسی نے نہ سُنا۔اور اس کا مارا جانا ایک ہیبت ناک امر تھا۔یعنی لوگوں کو بہت ہیبتناک معلوم ہوا اور اس کا بڑا اثر دلوں پر ہوا۔