اصحاب احمد (جلد 2) — Page 151
151 کہ استادوں کی تنخواہ کہاں سے بہم پہنچائیں۔حضرت اقدس آج کل بہت بڑے کاموں میں مصروف ہیں۔آپ کا ایک ایک لمحہ ایک عظیم الشان پہاڑ کے پاش پاش کرنے میں مصروف ہے۔ایسے وقت میں ان کے اوقات گرامی میں تشویش ڈالنا ایک عارف خادم کو سخت گراں معلوم ہوتا ہے۔بایں ہمہ سکول کی حالت نے کئی دفعہ مجھے اور برا در مولوی محمد علی صاحب ایم۔اے کو مضطر کر دیا ہے کہ ہم حضرت کے اوقات گرامی میں خلل انداز ہوں اور مدرسہ کی زار حالت کا نقشہ ان کی خدمت میں پیش کریں۔حضرت اقدس نے آخر ایک تدبیر سوچی ہے جس کی نسبت عنقریب اشتہار دیں گے۔اور نیز حضرت کی دعا سے ایک اور تجویز پیدا ہوگئی ہے یعنی خان محمد علی خاں صاحب رئیس مالیر کوٹلہ نے مدرسہ کو ایک ہزار روپیہ سالانہ دینا کیا ہے جس کے کچھ اوپر اسی روپے ماہوار ہوتے ہیں مگر نواب صاحب نے یہ سوچ کر مدرسہ کے اخراجات کے لئے یہ رقم بہت ناکافی ہے۔اپنی نکتہ رس تیز فہم طبیعت سے کمیٹی کو یہ مددی کہ ٹرسٹیوں کے مقرر کرنے کی تجویز نکالی یعنی جو شخص پانچ روپیہ ماہوار چندہ دے۔وہ مدرسہ تعلیم الاسلام کا ٹرسٹی قرار دیا جاوے۔اگر چہ اس سے پہلے بھی چند دوست ایسے ہیں جو پانچ روپے ماہوار یا اس سے بھی زیادہ چندہ دیتے ہیں۔جیسے شیخ رحمت اللہ صاحب بمبئی ہاؤس لاہور اور خواجہ کمال الدین صاحب بی۔اے پلیڈ ر پشاور اور حضرت مولوی نور الدین صاحب دس روپے ماہوار دیتے ہیں اور ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب پانچ روپے ماہوار دیتے ہیں اور چوہدری رستم علی خاں صاحب کورٹ انسپکٹر انبالہ پانچ روپے ماہوار دیتے ہیں مگر یہ تعداد یہیں تک محدود ہے کمیٹی نے حسن ظن اور وثوق کی بناء پر بعض مخلص دوستوں کے نام انتخاب کئے ہیں جن سے چاہا ہے کہ وہ از راہ کرم ٹرسٹی بننے کے لئے درخواستیں بھیجیں گے اور حضرت اقدس کے منشا کو پورا کر کے خدا تعالیٰ کی رضاء حاصل کریں گے۔اس وقت بھائیوں کو توجہ دلانے اور تحریک عام کی غرض سے یہ بھی ضروری معلوم ہوتا ہے کہ مدرسہ کی اور بھی ضرورتوں کو بیان کر دیں جن کے انصرام کے لئے ہمیں جانکاہ فکر لگی ہوئی ہے۔مدرسہ اور بورڈنگ کی عمارت بالکل نا کافی ہے اور مدرسہ کے مقصد کو ہرگز پورانہیں کرتی۔اس کی توسیع کی از بس ضرورت ہے۔خصوصاً بورڈنگ کی توسیع بہت جلد اور سب سے زیادہ ضروری ہے، اس لئے مدرسہ کی ترقی بیرونی طلباء کے اجتماع پر موقوف ہے اور یا سامان اور موزوں بورڈنگ ہی ایک ایسی جگہ ہے جو ان کو اکٹھا کر سکتی ہے۔سو ہماری بے سامانی کا یہ حال ہے کہ عجالہ ہم نے ایک کچا بورڈنگ قریباً بارہ سو روپے کے خرچ سے تیار کیا تھا جسے برسات کی غیر مترقب بارشوں نے خصوصاً سخت صدمہ پہنچایا ہے اور اب بہت سا حصہ از سرنو بنانے اور بعض حصہ ترمیم کے قابل ہو گیا ہے۔قادیان میں کوئی ایسا مکان بھی نہیں ملتا جسے کرایہ پر لے کر بورڈ نگ قرار دیا جا سکے علاوہ برآں مدرسہ میں مدرسہ کی تعلیمی ضروریات کے متعلق بھی ہنوز کوئی سامان نہیں