اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 141 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 141

141 استعمال کئے جاتے ہیں ایک اور طریق بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ ایک مدرسہ قائم ہو کر بچوں کی تعلیم میں ایسی کتابیں ضروری طور پر لازمی ٹھہرائی جائیں جن کے پڑھنے سے اُن کو پتہ لگے کہ اسلام کیا شے ہے اور کیا کیا خوبیاں اپنے اندر رکھتا ہے اور جن لوگوں نے اسلام پر حملے کئے ہیں۔حملے کیسے خیانت اور جھوٹ اور بے ایمانی سے بھرے ہوئے ہیں اور یہ کتابیں نہایت سہل اور آسان عبارتوں میں تالیف ہوں اور تین حصوں پر مشتمل ہوں۔پہلا حصہ ان اعتراضات کے جواب میں ہو جو عیسائیوں اور آریوں نے اپنی نادانی سے قرآن اور اسلام اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر کئے ہیں۔اور دوسرا حصہ اسلام کی خوبیوں اور اس کی کامل تعلیم اور اس کے ثبوت میں ہو اور تیسرا حصہ ان مذاہب باطلہ کے بطلان کے بیان میں ہو جو مخالف اسلام ہیں اور اعتراضات کا حصہ صرف سوال اور جواب کے طور پر ہوتا بچے آسانی سے اس کو سمجھ سکیں اور بعض مقامات میں نظم بھی ہوتا بچے اس کو حفظ کر سکیں ایسی کتابوں کا تالیف کرنا میں نے اپنے ذمہ لے لیا ہے اور جو طرز اور طریق تالیف کا میرے ذہن میں ہے اور جو غیر مذاہب کی باطل حقیقت اور اسلام کی خوبی اور فضیلت خدا تعالیٰ نے میرے پر ظاہر فرمائی ہے، میں یقین رکھتا ہوں کہ اگر ایسی کتابیں جو خدا تعالیٰ کے فضل سے میں تالیف کروں گا بچوں کو پڑھائی گئیں تو اسلام کی خوبی آفتاب کی طرح چمک اٹھے گی اور دوسرے مذاہب کے بطلان کا نقشہ ایسے طور سے دکھایا جائے گا جس سے ان کا باطل ہونا کھل جائے گا۔اے دوستویقیناً یا درکھو کہ دنیا میں سچاند ہب جو ہر ایک غلطی سے پاک اور ہر ایک عیب سے منزہ ہے صرف اسلام ہے یہی مذہب ہے جو انسان کو خدا تک پہنچاتا اور خدا کی عظمت دلوں میں بٹھاتا ہے ایسے مذہب ہرگز خدا تعالی کی طرف سے نہیں ہیں جن میں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ اپنے جیسے انسان کو خدا کر کے مان لو یا جن میں یہ تعلیمیں ہیں کہ وہ ذات جو مبدء ہر ایک فیض ہے وہ تمام جہان کا خالق نہیں ہے۔بلکہ تمام ارواح خود بخو دقدیم سے چلے آتے ہیں گویا خدا کی بادشاہت کی تمام بنیاد ایسی چیزوں پر ہے جو اس کی قدرت سے پیدا نہیں ہوئیں بلکہ قدامت میں اس کے شریک اور اس کے برابر ہیں۔سو جس کو علم اور معرفت عطا کی گئی ہے اس کا فرض ہے جو ان تمام اہل مذاہب کو قابل رحم تصور کر کے سچائی کے دلائل ان کے سامنے رکھے اور ضلالت کے گڑھے سے ان کو نکالے اور خدا سے بھی دعا کرے کہ یہ لوگ ان مہلک بیماریوں سے شفا پاویں اس لئے میں مناسب دیکھتا ہوں کہ بچوں کی تعلیم کے ذریعہ سے اسلامی روشنی کو ملک میں پھیلاؤں اور جس طریق سے میں اس خدمت کو انجام دونگا میرے نزدیک دوسروں سے یہ کام ہرگز نہیں ہو سکے گا۔ہر ایک مسلمان کا فرض ہے کہ اس طوفان ضلالت میں اسلامی ذریت کو غیر مذاہب کے وساوس سے بچانے کے لئے اس ارادہ میں میری مدد کرے۔سو میں مناسب دیکھتا ہوں کہ بالفعل قادیان میں ایک مڈل سکول قائم کیا جائے۔اور علاوہ تعلیم انگریزی کے ایک