اصحاب احمد (جلد 2) — Page 140
140 الله الرحمن الرحيم بسم ایک ضروری فرض کی تبلیغ نحمده ونصلی اگر چہ ہم دن رات اسی کام میں لگے ہوئے ہیں کہ لوگ اس بچے معبود پر ایمان لاویں جس پر ایمان لانے سے نور ملتا اور نجات حاصل ہوتی ہے لیکن اس مقصد تک پہنچانے کے لئے علاوہ ان طریقوں کے جو بقیہ حاشیہ: - دیکھ کر کہنے لگے ہیں ماس کھاندے او ماس“۔حالانکہ وہ مسلمان تھے اس کی یہی وجہ تھی کہ آریہ ماسٹر سکھلاتے تھے کہ گوشت خوری ظلم ہے اور بہت بری چیز ہے۔ماس کا لفظ میں نے پہلی دفعہ ان سے سنا تھا اسلئے میں سمجھ نہ سکا کہ ماس سے مراد گوشت ہے۔چنانچہ میں نے کہا یہ ماس تو نہیں بھیجی ہے۔انہوں نے بتایا کہ ماس گوشت کو ہی کہتے ہیں۔پس میں نے ماس کا لفظ پہلی دفعہ ان کی زبان سے سنا اور ایسی شکل میں سنا کہ گویا ماس خوری بُری ہوتی ہے اور اس سے بچنا چاہیئے۔غرض آر یہ مدرس اس قسم کے اعتراضات کرتے رہتے اور لڑ کے گھروں میں آ آکر بتاتے کہ وہ یہ اعتراض کرتے ہیں۔آخر یہ معاملہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس پہنچا تو آپ نے فرمایا جس طرح بھی ہو سکے جماعت کو قربانی کر کے ایک پرائمری سکول قائم کہ کر دینا چاہیئے۔چنانچہ پرائمری سکول کھل گیا اور یہ سمجھا گیا کہ ہماری جماعت نے انتہائی مقصد حاصل کر لیا ہے۔اس عرصہ میں ہمارے بہنوئی نواب محمد علی خاں صاحب مرحوم و مغفور ہجرت کر کے قادیان آگئے۔انہیں سکولوں کا بڑا شوق تھا چنانچہ انہوں نے مالیر کوٹلہ میں بھی ایک مڈل سکول قائم کیا ہوا تھا۔انہوں نے کہا کہ میں چاہتا ہوں اس کو مڈل کر دیا جائے میں وہاں سکول کو بند کر دونگا اور وہ امداد یہاں دید یا کروں گا چنانچہ قادیان میں مڈل سکول ہو گیا۔پھر بعد میں کچھ نواب محمد علی خاں صاحب اور کچھ حضرت خلیفتہ امیخ اول رضی اللہ عنہ کے شوق کی وجہ سے فیصلہ کیا گیا کہ یہاں ہائی سکول کھولا جائے۔چنانچہ پھر یہاں ہائی سکول کھول دیا گیا۔لیکن یہ ہائی سکول پہلے نام کا تھا کیونکہ اکثر پڑھانے والے انٹرنس پاس تھے اور بعض شاید انٹرنس فیل بھی۔مگر بہر حال ہائی سکول کا نام ہو گیا۔زیادہ خرچ کرنے کی جماعت میں طاقت نہ تھی اور نہ ہی یہ خیال پیدا ہو سکتا تھا۔