اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 139 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 139

139 حضرت اقدس کی طرف سے قادیان میں مدرسہ کے قیام کی تجویز ابتدا میں احمدی بچے آریہ مدرسہ میں تعلیم پاتے تھے لیکن وہاں کا ماحول ان بچوں کی مذہبی روح کے لئے حد درجہ مضر پاکر حضرت اقدس نے اشتہار مورخہ ۱۵ ستمبر ۱۸۹۷ ء کے ذریعہ قادیان میں ایک مڈل سکول یا بشرط وسعت سرمایہ انٹرنس سکول کھولنے کی تجویز فرمائی اس مدرسہ کی اہمیت کا اندازہ حضور کے اشتہار کے پڑھے بغیر نہیں ہو سکتا اس لئے درج کیا جاتا ہے حضور فرماتے ہیں: بقیہ حاشیہ: - التعلیم الاسلام قادیان و مدرستہ الاسلام مالیر کوٹلہ کی پہلی جماعت کے لئے تالیف کیا۔اور اس امر سے سن تصنیف وسن قیام انجمن و قیام مدرسہ کا علم ہوتا ہے قرائن درج ذیل ہیں (۱) مدرسہ تعلیم الاسلام جنوری ۹۸ء میں قائم ہوا۔(۲) ۵ ستمبر ۱۹۰۰ء کو نواب صاحب مدرسہ تعلیم الاسلام کے ڈائرکٹر مقرر ہوئے (۳) مدرسہ تعلیم الاسلام سے گہرا تعلق آپ کا ہو چکا تھا۔جب یہ قاعدہ تالیف ہوا۔اور وہ گہرا تعلق بصورت ڈائرکٹر ہونے کے ہی ہو سکتا تھا (۴) دسمبر ۱۹۰۱ ء میں نواب صاحب ہجرت کر آئے اور مدرستہ الاسلام بند کر دیا۔ان سب امور سے معلوم ہوتا ہے کہ ۱۹۰۰ء میں یہ قاعدہ تالیف ہوا اس سے دو سال قبل یعنی ۱۸۹۸ء میں مدرستہ الاسلام کا اور چار سال قبل یعنی ۱۸۹۶ء میں انجمن مصلح الاخوان کا قیام عمل میں آیا تھا۔حمد اس کے اجراء کی وجہ کا ذکر کرتے ہوئے حضرت امیر المومنین خلیفتہ اسیح الثانی فرماتے ہیں: ایک وہ زمانہ تھا کہ ہمارے لئے ہائی کلاسز کو جاری کرنا بھی مشکل تھا۔یہاں آریوں کا مڈل سکول ہوا کرتا تھا۔شروع شروع میں اس میں ہمارے لڑکے جانے شروع ہوئے تو آریہ ماسٹروں نے ان کے سامنے لیکچر دینے شروع کئے کہ تم کو گوشت نہیں کھانا چاہیئے۔گوشت کھانا ظلم ہے وہ اس قسم کے اعتراضات کرتے تھے جو اسلام پر حملہ تھے۔لڑکے سکول سے آتے اور یہ اعتراضات بتلاتے یہاں ایک پرائمری سکول تھا اس میں بھی اکثر آریہ مدرس آیا کرتے اور یہی باتیں سکھلایا کرتے تھے۔پہلے دن جب میں اس سرکاری پرائمری سکول میں پڑھنے گیا اور دو پہر کو میرا کھانا آیا تو میں سکول سے باہر نکل کر ایک درخت کے نیچے جو پاس ہی تھا کھانا کھانے کے لئے جا بیٹھا۔مجھے خوب یاد ہے کہ اس روز کلیجی پکی تھی اور وہی میرے کھانے میں بھجوائی گئی اس وقت میاں عمر الدین صاحب مرحوم جو میاں عبداللہ صاحب حجام کے والد تھے۔وہ بھی اسی سکول میں پڑھا کرتے تھے لیکن وہ بڑی جماعت میں تھے اور میں پہلی جماعت میں تھا میں کھانا کھانے بیٹھا تو وہ بھی آپہنچے اور