اصحاب احمد (جلد 2) — Page 135
135 مر گیا وہ دنیا میں موجود نہیں۔بھائی یوسف علی خاں مرحوم مر گئے تو آخر دنیا کا کام رکا نہیں رہا اور آخر ہم میں سے بھی سب نے یکے بعد دیگرے مرنا ہے مگر دنیا ہے کہ اسی طرح چلتی رہے گی پس آپ فرض کر لیں کہ میں بھی یوسف علی خاں صاحب کی طرح مر گیا میں سچ کہتا ہوں کہ مجھ کو ذرا بھی دنیا کی ہوس نہیں ہے اور (نہ) عزتِ دنیا کا کوئی خیال۔اگر ایسا ہوتا تو کوئی جانے بوجھے کنوئیں میں گرتا ہے؟ اگر مجھ کو اپنے نقصانات دنیاوی کا کوئی خیال ہوتا تو میرے دل میں ایک تپش ہوتی جس سے میں دوڑتا پھرتا۔مگر وہ کیا چیز ہے کہ جس نے مجھ کو اس بات سے ہٹا دیا وہ یہی کہ دنیا کی طرف سے میرا دل مر گیا ہے اور یہ حالت خدا کرے کہ ترقی کرے۔۔۔میں صاف صاف آپ صاحبوں کو کہتا ہوں کہ میں ہرگز ہرگز ان دنیاوی امور میں پڑنا نہیں چاہتا کیونکہ یہ امور میری دینی منزل میں قزاقوں کا کام کرتے ہیں اور میں اپنا دین لگا نا نہیں چاہتا ہپس جو کچھ آپ صاحبوں نے کرنا ہے میرے وجود کو اپنے میں سے خارج کر کے کریں۔ہاں مگر آپ صاحبوں کی خاطر بادل ناخواستہ اس قدر میں کر سکتا ہوں کہ میں اپیل پر دستخط کر دوں اور سوائے ایسے معاملات کے جن سے مجھ کو قطعاً اختلاف نہ ہو میں خرچ کا شریک رہوں اور دستخط کر دوں۔میرے پیارے بھائی ! میں کیا کروں میری حالت ایسی ہو رہی ہے کہ میں آپ کے منشا کو پوری نہیں کر سکتا۔اور ہماری حالت بالکل مختلف ہے معشوق من آنست که بنزدیک تو زشت است آپ کو بُرا نہ منانا چاہیئے کیوں کہ اصول و مقاصد کا اختلاف اس علیحدگی کا موجب ہے۔اگر میرے مقاصد بھی وہی ہوتے جو آپ کے ہیں تو مجھ کو کوئی عذر نہ ہوتا آگے میں ہمیشہ ایسے کاموں میں آگے قدم رکھتا تھا۔دعا کے لئے میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کو اکثر یاد دلاتا رہا ہوں اور وہ فرماتے ہیں کہ ہم دعا کرتے ہیں پس جو صورت ہمارے لئے خدا نکالے گا۔وہ مبارک ہوگی میں بھی انشاء اللہ جو کچھ مجھ سے ہوگا دعا میں مشغول رہوں گا مگر میں ایسے دنیاوی امور میں ایکٹو پارٹ لینے سے معذور ہوں خدا کرے کہ آپ کو میری اس تحریر سے رنج نہ ہو اور مجھ کو واقعی معذور سمجھیں گے اور اپنے کاموں میں اسی طرح لگیں گے کہ گویا میں دنیا میں نہیں۔راقم محمد علی خاں جو د یه مکتوب ۱۴ جون ۱۹۰۴ ء یا زیادہ سے زیادہ ۰۴-۸-۲۳ تک کا ہے اسلئے کہ نقول روبکار کے رجسٹر سے صفحات مسلسل ہوتے ہیں، اور اس سے قبل کی چٹھی پر تاریخ ۰۴-۶-۴ ادرج ہے۔مکتوب ہذا اس رجسٹر کی آخری چٹھی ہے۔یہ بہر حال ۲۳ اگست ۰۴ ء تک کا ہے۔کیونکہ اس تاریخ کو حضرت نواب صاحب قادیان سے باہر گئے اور ۰۵ ء میں واپس آئے۔