اصحاب احمد (جلد 2) — Page 136
136 حضرت اقدس کا باغ میں قیام ایک شدید زلزلہ نے وادی کانگڑہ میں عظیم تباہی مچادی تھی اور مزید زلازل کے متعلق حضور کو الہام ہو چکے تھے اس لئے حضور مع خدام بڑے باغ میں خیمہ زن ہو گئے تھے۔مدرسہ بورڈنگ، دفتر ریویو، درس حضرت مولوی نورالدین صاحب غرضیکہ اب سب کچھ وہیں تھا۔چونکہ ان ایام میں قادیان اور نواح میں طاعون زوروں پر تھی۔اس لئے حضرت اقدس نے تحریر فرمایا: بسم الله الرحمن الرحيم نحمده ونصلى على رسوله الكريم مجی عزیزی اخویم نواب صاحب سلّمۂ تعالی۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ قادیان میں تیزی سے طاعون شروع ہوگئی ہے۔آج میاں محمد افضل ایڈیٹر اخبار البدر کا لڑکا جاں بلب ہے۔نمونیا پلیگ ہے آخری دم معلوم ہوتا ہے۔ہر طرف آہ وزاری ہے۔خدا تعالیٰ فضل کرے۔ایسی صورت میں میرے نزدیک بہت مناسب ہے کہ آپ اخیر اپریل ۱۹۰۵ ء تک ہرگز تشریف نہ لاویں دنیا پر ایک تلوار چل رہی ہے خدائے تعالیٰ رحم فرمادے باقی خدا تعالیٰ کے فضل سے سب خیریت ہے۔والسلام۔خاکسار مرزا غلام احمد عفی عنہ۔قادیان میں قیام کے متعلق جن جذبات کا ذکر ہم اور اق سابقہ میں پڑھ چکے ہیں ان سے ہمیں معلوم ہو چکا ہے کہ نواب صاحب حضرت اقدس اور قادیان سے دوری کو آب حیواں سے بُعد یقین جانتے تھے اس لئے اس عرصہ مہجوری اور سر چشمہ علم و عرفان سے دوری میں آپ ماہی بے آب کی طرح تڑپتے ہوں گے یہ خیالی امر نہیں بلکہ حقیقت ثابتہ ہے۔چنانچہ بدر میں مکرم مفتی محمد صادق صاحب رقم فرماتے ہیں ۴ اراپریل ۱۹۰۵ء نواب محمد علی خاں صاحب کا خط آیا جس میں انہوں نے الحاج کے ساتھ لکھا ہوا تھا کہ میں اب لاہور میں ہر گز نہیں رہ سکتا۔مجھے باغ کے کسی گوشہ میں جگہ دے دیں۔عاجز راقم کو حکم دیا کہ ان کو تحریر کر دو کہ آجائیں اور باغ کے کسی حصہ میں جہاں چاہیں جگہ کر لیں“۔۱۰۷ سو آپ قادیان تشریف لے آئے چنانچہ معزز بدر میں مرقوم ہے: حضرت نواب محمد علی خاں صاحب بمعہ ڈیرہ لاہور سے واپس قادیان آگئے اور حضرت کے قریب باغ میں اپنا خیمہ لگایا۔۱۰۸