اصحاب احمد (جلد 2) — Page 130
130 اطفال اس جگہ ہیں۔سو اس گھر میں تو بالکل گنجائش نہیں۔طاعون کا دورہ ساٹھ ساٹھ ☆ ستر ستر ، اسی اسی برس ہوتا ہے۔چونکہ حقیقت یہی تھی کہ ساکنین دار کے لئے بوجہ اثر دہام کثرت ساکنین تنگی تھی۔اس لئے حضرت نواب مکتوبات حضرت مسیح موعود علیہ السلام بنام مولوی عبد اللہ صاحب سنوری مکتوب نمبر ۶۶۔اس مکتوب پر مولوی محمد اسمعیل صاحب رضی اللہ عنہ نے ایک نوٹ دیا ہے جسے مکتوبات احمد یہ جلد پنجم نمبر پنجم میں بھی نقل کیا گیا ہے اور وہ یہ ہے : نوٹ اس خط پر حضور نے تاریخ نہیں دی ہے ( ہاں اس بات سے اس سال کا اندازہ ہو سکتا ہے جس میں یہ خط حضور نے لکھا ہے کہ یہ طاعون کے حملے کے پہلے سال کا واقعہ ہے۔حضور اپنے مکتوب مورخہ ۲۵ راپریل ۹۸ء بنام جناب سیٹھ حاجی عبد الرحمن اللہ رکھا صاحب مدراس میں تحریر فرماتے ہیں کہ اس طرف طاعون کا بہت زور ہے سنا ہے کہ ایک دو مشتبہ وارد تیں امرتسر میں بھی ہوئی ہیں۔اور مکتوب مورخہ ۵ رمئی ۹۸ء بنام سیٹھ صاحب موصوف نیز فرماتے ہیں کہ : اس طرف طاعون چمکتی جاتی ہے۔اب اتنی کے قریب گاؤں ہیں جن میں زور شور ہورہا ہے۔قادیان میں یہ حال ہے کہ لڑکوں اور جوانوں اور بڑھوں کو بھی خفیف سا تپ چڑھتا ہے۔دوسرے دن کانوں کے نیچے یا بغل کے نیچے یا بن ران میں گلٹی نکل آتی ہے۔گلٹی تیسرے چوتھے روز خود بخود تحلیل ہو کر کم ہو جاتی ہے۔مگر اس خط بنام مولوی عبداللہ صاحب میں یہ کوئی ذکر نہیں کہ اس علاقہ میں بھی طاعون نمودار ہو رہی ہے جس سے بطور تخمینہ یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ خط مارچ یا اپریل ۹۸ ء کا لکھا ہوا ہے۔مؤلف ہذا کے نزدیک یہ مکتوب ۱۴/ نومبر ۱۹۰۱ء سے ۱۳ راگست ۱۹۰۴ ء تک کی کسی تاریخ بلکہ غالباً ۱۹۰۲ء کا ہی خود سیٹھ صاحب کے قادیان کے نواح میں طاعون کے شدت پکڑنے کا ذکر ہے چنانچہ حضوڑ ۰۲-۴-۳ کو تحریر فرماتے ہیں: اس وقت قادیاں کے چاروں طرف طاعون ہے قریباً دوکوس کے فاصلہ پر اور قادیان اس وقت ایک ہی کشتی کی طرح ہے جس کے اردگر دسخت طوفان ہو اور وہ دریا