اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 119 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 119

119 میں کسی کو نصیب نہیں ہوا۔اگر کسی کو حاصل ہوا ہے تو پیش کرے اب آخر میں اس بات کا جواب بھی عرض کرتا ہوں کہ میں اپنے امور دنیا وی کو ٹلہ سے غافل نہیں۔مجھ کو وہاں کی ذرہ ذرہ خبر ملتی ہے اور میں خدا کے فضل سے اسی طرح اپنا کام چلا رہا ہوں جس طرح کوٹلہ میں بلکہ اس سے بہتر۔اسی طرح میں مناسب مشورہ بھی دے سکتا ہوں پھر وہ کون سی بات ہے جس کے لئے میں کوٹلہ میں رہوں اور اس برکت کو چھوڑوں جو خداوند تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے عطا فرمائی ہے اور خدائے رحیم و کریم نے ہم کو وہ نیک گورنمنٹ بھی عطا فرمائی جس کے سایہ عاطفت میں اس طرح آرام سے ہم اپنے ارکان مذہبی ادا کرتے ہیں اور نہایت عمدہ طور سے بے دغدغہ روحانی فائدے حاصل کر رہے ہیں۔ہمارا اپنا ایمان ہے کہ اگر ہم اس گورنمنٹ کے شکر گزار نہ ہوں تو بموجب لا يشكر النَّاسَ لا يشكر الله ہم خداوند تعالیٰ (کے) انعام کی ناقدری کریں گے۔کیونکہ یہ خداوند تعالیٰ ہی کے انعامات میں سے ہے اور ہماری شرائط بیعت میں ہے کہ دین کو دنیا پر مقدم کریں اور اپنی مہربان گورنمنٹ کے شکر گذار ہوں اس کی پوری اطاعت کریں یہی چیز مجھ کو یہاں رکھ رہی ہے کہ جوں جوں مجھ میں ایمان بڑھتا جاتا ہے اسی قدر دنیا بیچ معلوم ہوتی جاتی ہے اور دین مقدم ہوتا جاتا ہے خداوند تعالیٰ اور انسان کے احسان کے شکر کا احساس بھی بڑھتا جاتا ہے اسی طرح گورنمنٹ عالیہ کی فرمانبرداری اور شکر گذاری دل میں پوری طرح سے گھر کرتی جاتی ہے۔قادیان کے قیام میں مشکلات راقم محمد علی خاں قادیان کی آبادی گو احمدیت کی وجہ سے روز بروز ترقی کر رہی تھی لیکن یہ ترقی ابھی بالکل ابتدائی حیثیت کی تھی۔مولانا ابوالنصر آہ کی زبانی چار سال بعد کی قادیان احباب دیکھ چکے ہیں اس وقت پہلے سے کافی ترقی ہو چکی ہوگی لیکن کافی عرصہ تک یہ حال رہا کہ روز مرہ کی ضروریات زندگی بھی پورے طور پر مہیا نہ ہوسکتی تھیں۔چنانچہ ۱۹۰۲ء میں پیر سراج الحق صاحب رضی اللہ عنہ نے اخبار میں یہ اعلان کر دیا تھا کہ باہر سے آنے والے دوست ان کے لئے پان لے آیا کریں پان تو الگ رہا وہ تو ضروریات زندگی سے نہیں لیکن معمولی کپڑا اور طعام و قیام کی حوائج ضرور یہ بھی یہاں سے پوری نہیں ہو سکتی تھیں۔چنانچہ مکرم بھائی عبدالرحیم صاحب فرماتے ہیں کہ مہمانوں کے لئے آتا میں حضرت اقدس کے ارشاد پر دہار یوال سے لایا کرتا تھا۔دہار یوال قادیان سے چھ میل کی مسافت پر ہے۔سو تھم کی زندگی بسر کرنے والے رئیس اور ان کی بیگم اور صاحبزادگان کے لئے یہ کوئی معمولی قربانی نہ تھی وہی شخص ایسی قربانی پر آمادہ ہو سکتا تھا جس کے مدنظر محض امور آخرت ہوں